حدیث نمبر: 626
626 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يُنَجِّيَهُ الْعَمَلُ» فَقِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو کیونکہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دلا سکے گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”اور مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔“
حدیث نمبر: 627
627 - أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا» مُخْتَصَرٌ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔
حدیث نمبر: 628
628 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاصِحُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُمُعَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا» مُخْتَصَرٌ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو اور خوشخبری دو۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ دین میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرو، افراط و تفریط سے بچو کیونکہ اگر افراط و تفریط اپناؤ گے تو منزل مقصود تک بھی نہ پہنچ پاؤ گے لہٰذا حتی المقدور راہ اعتدال پر ہی چلو، اگر اس پر کلی طور پر نہیں چل سکتے تو کم از کم یہ کوشش کرو کہ اس کے قریب قریب رہو۔ یعنی ہر حال میں طریقہ نبوی ہی کو سامنے رکھو، اسی کو اپناؤ گے تو کامیابی ملے گی، ادھر ادھر مت دیکھو ورنہ بدعات و خرافات میں پڑ کر فرائض سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔
مطلب یہ ہے کہ دین میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرو، افراط و تفریط سے بچو کیونکہ اگر افراط و تفریط اپناؤ گے تو منزل مقصود تک بھی نہ پہنچ پاؤ گے لہٰذا حتی المقدور راہ اعتدال پر ہی چلو، اگر اس پر کلی طور پر نہیں چل سکتے تو کم از کم یہ کوشش کرو کہ اس کے قریب قریب رہو۔ یعنی ہر حال میں طریقہ نبوی ہی کو سامنے رکھو، اسی کو اپناؤ گے تو کامیابی ملے گی، ادھر ادھر مت دیکھو ورنہ بدعات و خرافات میں پڑ کر فرائض سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔