کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: ابن آدم ! تیرے پاس وہ ہے جو تجھے کافی ہے جبکہ تو ایسی چیز طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے ۔ ابن آدم ! تو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا اور زیادہ سے سیر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 618
618 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دُوسْتَ النَّيْسَابُورِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ  بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي: ابْنَ الْمُهَاجِرِ الْحِجَازِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنَ آدَمَ عِنْدَكَ مَا يَكْفِيكَ وَأَنْتَ تَطْلُبُ مَا يُطْغِيكَ، ابْنَ آدَمَ لَا بِقَلِيلٍ تَقْنَعُ وَلَا مِنْ كَثِيرٍ تَشْبَعُ، إِذَا أَصْبَحْتَ مُعَافًى فِي جَسَدِكَ آمِنَّا فِي سِرْبِكَ عِنْدَكَ قُوتُ يَوْمِكَ فَعَلَى الدُّنْيَا الْعَفَاءُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم! تیرے پاس وہ ہے جو تجھے کافی ہے جبکہ تو ایسی چیز طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے۔ ابن آدم! تو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا اور زیادہ سے سیر نہیں ہوتا۔ جب تو نے اس حال میں صبح کی کہ تو جسمانی طور پر تندرست تھا، اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف تھا اور تیرے پاس تیرے دن بھر کی خوراک موجود تھی تو پھر دنیا پر تو خاک ڈال۔“
وضاحت:
فائدہ: -
حدیث نمبر 540ملاحظہ کیجیے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 618
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه شعب الايمان : 9876 تاريخ دمشق : 16/ 212، الكامل لابن عدي 5/ 231» ابوبکر الداہری سخت ضعیف ہے ۔