کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: تم لوگوں میں سب سے برا دو رُخے شخص کو پاؤ گے جو ان کے پاس ایک رخ لے کر جاتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر جاتا ہے
حدیث نمبر: 605
605 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ رِجَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ» وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَفِيهِ: «الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں میں سب سے برا دو رخے شخص کو پاؤ گے جو ان کے پاس ایک رخ لے کر جاتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر جاتا ہے۔“ اسے امام مسلم بن حجاج نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے: ”جو ان کے پاس ایک رخ لے کر جاتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 606
606 - وأنا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ نا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، وَخِيَارِهِمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا، وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ، وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے، ان میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور اس (حکمرانی) کے معاملے میں تم لوگوں میں سے سب سے بہتر اسے پاؤ گے جو اسے سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے اور تم لوگوں میں سب سے برا دو رخے شخص کو پاؤ گے جو ان کے پاس ایک رخ لے کر جاتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر جاتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
”تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے۔“ اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہوں: حدیث نمبر 196۔
دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ باور کرائے کہ وہ اس کا ساتھی اور دوسرے کا مخالف ہے لیکن جب دوسرے کے پاس جائے تو وہاں بھی اسی طرح کا تاثر دے۔ ایسا شخص بدترین انسان ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ”جو شخص دنیا میں دو رخا ہوا تو روز قیامت اس کے لیے آگ کی زبان ہوگی۔“ [أبو داود: 4873 ودارمي: 2767]
”تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے۔“ اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہوں: حدیث نمبر 196۔
دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ باور کرائے کہ وہ اس کا ساتھی اور دوسرے کا مخالف ہے لیکن جب دوسرے کے پاس جائے تو وہاں بھی اسی طرح کا تاثر دے۔ ایسا شخص بدترین انسان ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ”جو شخص دنیا میں دو رخا ہوا تو روز قیامت اس کے لیے آگ کی زبان ہوگی۔“ [أبو داود: 4873 ودارمي: 2767]