کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: قیامت قریب آچکی ہے اور لوگ دنیا کی حرص میں بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور (اللہ سے ) ان کی دوری میں اضافہ ہی ہو رہا ہے
حدیث نمبر: 597
597 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَشِيرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ النَّهْدِيَّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا يَزْدَادُ النَّاسُ عَلَى الدُّنْيَا إِلَّا حِرْصًا، وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قریب آچکی ہے اور لوگ دنیا کی حرص میں بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور (اللہ سے) ان کی دوری میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ قیامت قریب آنے کے باوجود اس سے بے فکر ہیں، بس دنیا کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور دن بدن اپنے رب سے دور ہوتے جار ہے ہیں جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے توں توں لوگوں کی اپنے رب سے دوری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دنیا کی طمع و حرص میں اس قدر محو ہیں کہ اپنے رب کو ہی بھلا چکے ہیں، غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات آج سے کوئی سوا چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمائی تھی جس وقت انسان اپنے رب سے اتنا دور نہیں تھا جتنا کہ آج ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ سے دوری کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا حتی کہ قرب قیامت نوبت یہاں تک آپہنچے گی کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ ٰ کو یاد کرنے والا کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمین پراللہ کی آواز آنا ختم نہ ہو جائے۔“[مسلم: 148]
مطلب یہ ہے کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ قیامت قریب آنے کے باوجود اس سے بے فکر ہیں، بس دنیا کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور دن بدن اپنے رب سے دور ہوتے جار ہے ہیں جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے توں توں لوگوں کی اپنے رب سے دوری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دنیا کی طمع و حرص میں اس قدر محو ہیں کہ اپنے رب کو ہی بھلا چکے ہیں، غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات آج سے کوئی سوا چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمائی تھی جس وقت انسان اپنے رب سے اتنا دور نہیں تھا جتنا کہ آج ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ سے دوری کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا حتی کہ قرب قیامت نوبت یہاں تک آپہنچے گی کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ ٰ کو یاد کرنے والا کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمین پراللہ کی آواز آنا ختم نہ ہو جائے۔“[مسلم: 148]