کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: مؤمن پر تعجب ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ مومن کے لیے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 596
596 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ فَوَاللَّهِ لَا يَقْضِي اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن پر تعجب ہے، اللہ کی قسم! اللہ مؤمن کے لیے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے معاملے پر تعجب ہے، بے شک اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہے اور یہ اعزاز صرف مومن کے لیے ہے کہ اگر اسے کوئی خوشی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ (شکر ادا کرنا) اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ (صبر کرنا) بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ [مسلم: 2999]
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے معاملے پر تعجب ہے، بے شک اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہے اور یہ اعزاز صرف مومن کے لیے ہے کہ اگر اسے کوئی خوشی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ (شکر ادا کرنا) اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ (صبر کرنا) بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ [مسلم: 2999]