کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا
حدیث نمبر: 572
572 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، أبنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أنا أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدُوَيْهِ الْمَسْعُودِيُّ، أبنا أَبُو عَلِيِّ بْنُ رَزِينٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 573
573 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا مُسْلِمٌ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 574
574 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَاشِمِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 575
575 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ شَهْرَيَارَ وَابْنُ رِيذَةَ، نا الْإِمَامُ الطَّبَرَانِيُّ، نا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ» قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: «لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا أَبُو عَوَانَةَ. تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ امام طبرانی رحمہ اللہ نے کہا: اسے قتادہ سے صرف ابوعوانہ نے روایت کیا ہے اور ان سے بیان کرنے میں محمد بن ابان منفرد ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
ہوا اللہ تعالیٰ ٰ کی نشانیوں میں سے ہے یہ مدد کا ذریعہ بھی ہے اور عذاب بھی، اللہ تعالیٰ ٰ نے صبا کے ذریعے اپنے نبی کی مدد فرمائی۔ صبا سے مراد وہ ہوا ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کفار عرب کے لشکر نے مسلمانوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ ٰ نے اس ہوا کے ذریعے اپنے نبی اور مومنوں کی مدد فرمائی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ (الاحزاب: ۹)
”ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو جب لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (بھیجے) جنہیں تم نہ دیکھے اور سکے اور جو بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ “
د بور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ دبور اس ہوا کو کہتے ہیں جو مغرب سے مشرق کی طرف چلتی ہے یعنی یہ صبا کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بلاک کیا تھا۔ قوم عاد بڑی سرکش قوم تھی جب انہوں نے نبی ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور اپنی سرکشی و بد کرداری میں تمام حدیں پار کر دیں تو اللہ تعالیٰ ٰ نے ان پر دبور چلائی اور انہیں ہلاک کر دیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ «٦» سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ «٧» فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ «٨» ﴾ (الحافة: 8-6)
”اور جو قوم عاد تھی وہ سخت ٹھنڈی تند ہوا کے ساتھ بلاک کیے گئے جو ق ابوسے باہر ہونے والی تھی اس (اللہ) نے اسے سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلائے رکھا پس تو ان لوگوں کو اس میں یوں (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں پس کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے۔ “
ہوا اللہ تعالیٰ ٰ کی نشانیوں میں سے ہے یہ مدد کا ذریعہ بھی ہے اور عذاب بھی، اللہ تعالیٰ ٰ نے صبا کے ذریعے اپنے نبی کی مدد فرمائی۔ صبا سے مراد وہ ہوا ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کفار عرب کے لشکر نے مسلمانوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ ٰ نے اس ہوا کے ذریعے اپنے نبی اور مومنوں کی مدد فرمائی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ (الاحزاب: ۹)
”ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو جب لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (بھیجے) جنہیں تم نہ دیکھے اور سکے اور جو بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ “
د بور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ دبور اس ہوا کو کہتے ہیں جو مغرب سے مشرق کی طرف چلتی ہے یعنی یہ صبا کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بلاک کیا تھا۔ قوم عاد بڑی سرکش قوم تھی جب انہوں نے نبی ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور اپنی سرکشی و بد کرداری میں تمام حدیں پار کر دیں تو اللہ تعالیٰ ٰ نے ان پر دبور چلائی اور انہیں ہلاک کر دیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ «٦» سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ «٧» فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ «٨» ﴾ (الحافة: 8-6)
”اور جو قوم عاد تھی وہ سخت ٹھنڈی تند ہوا کے ساتھ بلاک کیے گئے جو ق ابوسے باہر ہونے والی تھی اس (اللہ) نے اسے سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلائے رکھا پس تو ان لوگوں کو اس میں یوں (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں پس کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے۔ “