کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست ہو ، اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو ، اس کے پاس اس کے دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی
حدیث نمبر: 539
539 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دُوسْتَ النَّيْسَابُورِيُّ، إِجَازَةً، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِي بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بُدْنِهِ آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست ہو، اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو، اس کے پاس اس کے دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی۔“
حدیث نمبر: 540
540 - وَأَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ مُوسَى الْهَاشِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ طَعَامُ يَوْمٍ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن محصن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو، جسمانی طور پر تندرست ہو، اس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی۔“
وضاحت:
تشریح: -
جسمانی طور پر تندرستی، اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے اطمینان، اور کم از کم ایک دن کی خوراک، یہ تین چیزیں ہر انسان کی اصل ضرورتیں ہیں، جسے یہ میسر آ گئیں تو سمجھ لو کہ اسے دنیا و جہاں کی ساری نعمتیں مل گئیں وہ خوش نصیب ہے، اسے چاہیے کہ اپنے نصیب پر راضی رہے اور اللہ کا شکر ادا کرے، باقی مستقبل کے حوالے سے امید رکھے کہ جس ذات نے آج مجھ پر کرم فرمایا ہے اور میری ضروریات پوری فرما دی ہیں وہ آنے والی کل میں بھی ضرور میری مددفرمائے گا۔
جسمانی طور پر تندرستی، اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے اطمینان، اور کم از کم ایک دن کی خوراک، یہ تین چیزیں ہر انسان کی اصل ضرورتیں ہیں، جسے یہ میسر آ گئیں تو سمجھ لو کہ اسے دنیا و جہاں کی ساری نعمتیں مل گئیں وہ خوش نصیب ہے، اسے چاہیے کہ اپنے نصیب پر راضی رہے اور اللہ کا شکر ادا کرے، باقی مستقبل کے حوالے سے امید رکھے کہ جس ذات نے آج مجھ پر کرم فرمایا ہے اور میری ضروریات پوری فرما دی ہیں وہ آنے والی کل میں بھی ضرور میری مددفرمائے گا۔