کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس شخص نے لوگوں سے ان کے مال اس لیے مانگے کہ (اپنی) دولت میں اضافہ کرے تو درحقیقت وہ ایک انگارہ ہے اب ( اس کی مرضی ہے ) چاہے تو اس میں سے کم مانگلے یا زیادہ مانگ لے ۔
حدیث نمبر: 525
525 - أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ اللَّهِ شُعَيْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْمِنْهَالِ أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا هِيَ جَمْرٌ فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَوَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا: نا ابْنُ فُضَيْلِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں سے ان کے مال اس لیے مانگے کہ (اپنی) دولت میں اضافہ کرے تو درحقیقت وہ ایک انگارہ ہے اب (اس کی مرضی ہے) چاہے تو اس میں سے کم مانگ لے یا زیادہ مانگ لے۔“ اسے مسلم نے ابوکریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ رحمہما اللہ سے روایت کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن فضیل رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل بیان کیا ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ جو شخص بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے وہ حقیقت میں جہنم کی آگ کے انگارے مانگتا ہے اب آگے اس کی مرضی ہے کہ انگارے زیادہ مانگ لے یا کم۔ لوگوں سے بلاوجہ مانگنا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر بڑی سخت وعیدیں ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ جب روز قیامت وہ پیش ہوگا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہوگا۔ “ [بخاري: 174 مسلم: 1040]
ایک اور حدیث ہے کہ ” مانگنا خراش ہے، آدمی اس کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے البتہ بادشاہ سے مانگنا یا کسی ایسی چیز کے بارے میں مانگنا جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ جائز ہے۔ “ [أبو داود: 1639 ترمذي 681، صحيح]
اس حدیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ جو شخص بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے وہ حقیقت میں جہنم کی آگ کے انگارے مانگتا ہے اب آگے اس کی مرضی ہے کہ انگارے زیادہ مانگ لے یا کم۔ لوگوں سے بلاوجہ مانگنا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر بڑی سخت وعیدیں ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ جب روز قیامت وہ پیش ہوگا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہوگا۔ “ [بخاري: 174 مسلم: 1040]
ایک اور حدیث ہے کہ ” مانگنا خراش ہے، آدمی اس کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے البتہ بادشاہ سے مانگنا یا کسی ایسی چیز کے بارے میں مانگنا جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ جائز ہے۔ “ [أبو داود: 1639 ترمذي 681، صحيح]