کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جس نے آخرت کے کام کے بدلے میں دنیا کا کام طلب کیا تو آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا
حدیث نمبر: 484
484 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ عَمَلَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ فَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے آخرت کے کام کے بدلے میں دنیا کا کام طلب کیا تو آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کو عزت و سر بلندی (اللہ کی) نصرت اور اقتدار کی بشارت دے دو، پس ان میں سے جس کسی نے آخرت کا کام دنیا کے لیے کیا تو آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [أحمد: 5/ 134، وسنده حسن]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 484
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث إسناده ضعیف، سفیان ثوری مدلس کا عنعنہ ہے ۔