کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس شخص نے لوگوں کو اپنا عمل دکھایا اللہ قیامت کے دن اس کے اس عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا اور اسے حقیر اور ذلیل کر کے رکھ دے گا
حدیث نمبر: 482
482 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ أَبِي عُبَيْدَةَ فَذَكَرُوا الرِّيَاءَ فَقَالَ شَيْخٌ يُكْنَى أَبَا يَزِيدَ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوعبیدہ کے پاس بیٹھے تھے تو لوگوں نے ریاکاری کا ذکر چھیڑ دیا۔ ایک بزرگ جن کی کنیت ابویزید تھی، کہنے لگے: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس شخص نے لوگوں کو اپنا عمل دکھایا اللہ قیامت کے دن اس کے اس عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا اور اسے حقیر اور ذلیل کر کے رکھ دے گا۔“
حدیث نمبر: 483
483 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُهَنْدِسِ، نا أَبُو بِشْرٍ الدُّولَابِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا حَجَّاجُ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: نا رَجُلٌ، فِي بَيْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ، لَيْسَ فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبیدہ کے گھر میں ایک شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور۔۔۔۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی، اس میں «يوم القيامة» (قیامت کے دن) کے الفاظ نہیں تھے۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں ریا کاری کے خوفناک انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ریا کاری کا مطلب ہے کہ انسان اس نیت اور ارادے سے اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت کرے کہ لوگوں میں اس کی نیکی کا چرچا ہو، اسے کوئی مالی منفعت ملے یا لوگوں میں اس کا مقام بلند ہو، یا کم از کم لوگ اس کی تعریف کریں۔ احادیث میں ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیا ہے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطر ناک ہے؟ “ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پوشیدہ شرک ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو نماز کو خوب اچھی طرح ادا کرتا ہے، ایسا وہ صرف کسی آدمی کے دیکھنے کی وجہ سے کرتا ہے (ورنہ نہیں)۔ “ [ابن ماجه 4204، وسنده حسن]
دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ شرک اصغر ہے۔ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا: ”ریا کاری، روز قیامت جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ (ریا کار) لوگوں سے فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں اپنے اعمال دکھلایا کرتے تھے پھر دیکھو کہ کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔ “ [أحمد: 5/ 428، وسنده حسن]
ایک اور حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ تمام لوگوں کو قیامت کے دن، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، جمع کرے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ جس شخص نے جو کام اللہ کے لیے کیا تھا اور اس میں کسی اور کو اللہ کا ساجھی ٹھہرایا تھا تو وہ اپنے اس عمل کا ثواب اس سے مانگے کیونکہ اللہ اپنے شریکوں سے بے نیاز ہے۔ [ترمذي: 3154، وسنده حسن]
ریا کاری کی مذمت کے سلسلے میں ہماری کتاب ”نیکیوں کو برباد کرنے والے اعمال“ صفحہ 58تا 69ملاحظہ کیجیے۔
اس حدیث میں ریا کاری کے خوفناک انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ریا کاری کا مطلب ہے کہ انسان اس نیت اور ارادے سے اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت کرے کہ لوگوں میں اس کی نیکی کا چرچا ہو، اسے کوئی مالی منفعت ملے یا لوگوں میں اس کا مقام بلند ہو، یا کم از کم لوگ اس کی تعریف کریں۔ احادیث میں ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیا ہے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطر ناک ہے؟ “ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پوشیدہ شرک ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو نماز کو خوب اچھی طرح ادا کرتا ہے، ایسا وہ صرف کسی آدمی کے دیکھنے کی وجہ سے کرتا ہے (ورنہ نہیں)۔ “ [ابن ماجه 4204، وسنده حسن]
دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ شرک اصغر ہے۔ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا: ”ریا کاری، روز قیامت جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ (ریا کار) لوگوں سے فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں اپنے اعمال دکھلایا کرتے تھے پھر دیکھو کہ کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔ “ [أحمد: 5/ 428، وسنده حسن]
ایک اور حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ تمام لوگوں کو قیامت کے دن، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، جمع کرے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ جس شخص نے جو کام اللہ کے لیے کیا تھا اور اس میں کسی اور کو اللہ کا ساجھی ٹھہرایا تھا تو وہ اپنے اس عمل کا ثواب اس سے مانگے کیونکہ اللہ اپنے شریکوں سے بے نیاز ہے۔ [ترمذي: 3154، وسنده حسن]
ریا کاری کی مذمت کے سلسلے میں ہماری کتاب ”نیکیوں کو برباد کرنے والے اعمال“ صفحہ 58تا 69ملاحظہ کیجیے۔