کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس نے پشیمان ہونے والے کی فروخت کردہ چیز کو واپس کر دیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ٰ اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا
حدیث نمبر: 453
453 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْيَمَنِيُّ التَّنُوخِيُّ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ عَمْرُو بْنُ إِدْرِيسَ الْغَيْفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْفَرْوِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ نَادِمًا بَيْعَتَهُ أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پشیمان ہونے والے کی فروخت کردہ چیز کو واپس کر دیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا۔“
حدیث نمبر: 454
454 - أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَزْوِينِيُّ بِدِمْيَاطَ أنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ بِمَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نا أَبِي، نا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفَرْوِيُّ، نا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَقَالَ نَادِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پشیمان ہونے والے کی فروخت کردہ چیز کو واپس کر دیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
جب آپس میں دو تجارت کرنے والوں میں سے ایک آدمی کسی وجہ سے نادم ہو کہ اس نے یہ سودا کیوں کر لیا اور پھر وہ دوسرے سے اس بات کی درخواست کرے کہ فروخت کردہ چیز واپس لے لو، خریدار خریدی ہوئی چیز واپس کرنا چاہتا ہو یا بیچنے والا اسی قیمت پر بیچنا چاہتا ہو تو دوسرے فریق کو چاہیے کہ اس کا مطالبہ تسلیم کر کے وہ چیز یا رقم واپس کر دے اس کا بہت ثواب ہے، اللہ تعالیٰ ٰ ایسے شخص کے گناہ معاف کر دیتا ہے جو فروخت کر دہ چیز واپس لے لے۔
جب آپس میں دو تجارت کرنے والوں میں سے ایک آدمی کسی وجہ سے نادم ہو کہ اس نے یہ سودا کیوں کر لیا اور پھر وہ دوسرے سے اس بات کی درخواست کرے کہ فروخت کردہ چیز واپس لے لو، خریدار خریدی ہوئی چیز واپس کرنا چاہتا ہو یا بیچنے والا اسی قیمت پر بیچنا چاہتا ہو تو دوسرے فریق کو چاہیے کہ اس کا مطالبہ تسلیم کر کے وہ چیز یا رقم واپس کر دے اس کا بہت ثواب ہے، اللہ تعالیٰ ٰ ایسے شخص کے گناہ معاف کر دیتا ہے جو فروخت کر دہ چیز واپس لے لے۔