کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جسے جنت کے مرکز میں رہائش پذیر ہونا پسند ہو تو اسے چاہیے کہ جماعت کو لازم پکڑے
حدیث نمبر: 451
451 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنا ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ فِي خُطْبَتِهِ بِالْجَابِيَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْكُنَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مَعَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات جابیہ مقام پر اپنے خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے جنت کے مرکز میں رہائش پذیر ہونا پسند ہو تو اسے چاہیے کہ جماعت کو لازم پکڑے کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں بھی لزوم جماعت کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چھٹے رہنے میں ہی فائدہ ہے۔ اہل السنہ والجماعۃ کا منہج اور طریقہ ہی کامیابی کا راستہ ہے، اسی پر چلنے، سے جنت میں بہترین ٹھکانا ملے گا، اس سے ہٹ کر چلنا، اہل السنہ والجماعت کا منہج ترک کر دینا سراسر نقصان کا باعث ہے، جو شخص سلف کے راستے کو چھوڑ کر خود ساختہ راہ اپنا لے، وہ اپنے آپ کو شیطان کا کھلونا بنا لیتا ہے، شیطان اس کے ساتھ جیسے چاہے کھیلتا رہتا ہے، اللہ محفوظ فرمائے۔
اس حدیث میں بھی لزوم جماعت کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چھٹے رہنے میں ہی فائدہ ہے۔ اہل السنہ والجماعۃ کا منہج اور طریقہ ہی کامیابی کا راستہ ہے، اسی پر چلنے، سے جنت میں بہترین ٹھکانا ملے گا، اس سے ہٹ کر چلنا، اہل السنہ والجماعت کا منہج ترک کر دینا سراسر نقصان کا باعث ہے، جو شخص سلف کے راستے کو چھوڑ کر خود ساختہ راہ اپنا لے، وہ اپنے آپ کو شیطان کا کھلونا بنا لیتا ہے، شیطان اس کے ساتھ جیسے چاہے کھیلتا رہتا ہے، اللہ محفوظ فرمائے۔
حدیث نمبر: 452
452 - أنا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الْمُفَسِّرِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَاضِي الْمَرْوَزِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو خَيْثَمَةَ، نا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ وَذَكَرَ الْخُطْبَةَ الطَّوِيلَةَ وَفِيهَا: «فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ» مُخْتَصَرٌ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جابیہ مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطاب فرمایا اور انہوں نے ایک لمبے خطبے کا ذکر کیا اور اس میں یہ بھی تھا: ”تم میں سے جو شخص جنت کا مرکز پسند کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ جماعت کو لازم پکڑ لے۔“ انہوں نے اسے مختصر انداز میں ذکر کیا۔