کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی
حدیث نمبر: 444
444 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی اور جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی گھروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کرتی ہے۔ “ [أحمد: 6/159، وسنده حسن]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی گھروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کرتی ہے۔ “ [أحمد: 6/159، وسنده حسن]
حدیث نمبر: 445
445 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُعَدِّلُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، تَرْوِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِي حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ» وَقَالَ: أَثْقَلُ مَا فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ خُلُقٌ حَسَنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے اس کے حصے کی بھلائی مل گئی اور جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی سے محروم کر دیا گیا (گویا) اسے اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کے میزان میں سب سے وزنی چیز عمدہ اخلاق ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بداخلاق اور فحش گو انسان سے نفرت کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 446
446 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدٌ، هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ الضَّرِيرُ، ثنا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمَّتِي عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ نرم مزاجی میں ہر لحاظ سے خیر ہی خیر ہے، اس قدر خیر کہ جس انسان کو یہ مل گئی اسے دنیا و آخرت کی سب بھلائیاں مل گئیں اور جو اس سے محروم رہا وہ خیر و بھلائی سے یکسر محروم اور خالی ہاتھ ہو گیا۔ گویا نرم مزاجی خیر و بھلائی کی جڑ اور اس کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے ہر وقت خیر ہی خیر پھوٹتی ہے، جس انسان کی طبیعت میں نرمی ہو وہ ہر کسی کے لیے نرم ہوگا، نتیجتاً وہ خود بھی سکون میں رہے گا اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دے گا اور جس کی طبیعت میں سختی ہو وہ ہر کسی کے لیے سخت ہوگا، نیتجتا وہ اپنی زندگی کو خود ہی اپنے لیے عذاب بنالے گا۔
مومن کے میزان میں روز قیامت سب سے بھاری اور وزنی چیز اس کے اچھے اخلاق ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ انسان کے اخلاق تبھی اچھے ہوں گے جب اس کے اندر نرمی ہوگی گویا نرم مزاجی حسن اخلاق کی بنیاد ہے، جس کے اندر نرمی نہیں اس کے اخلاق کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے وہ بد اخلاق اور فحش گو ہوگا اور ایسا شخص اللہ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ نرم مزاجی میں ہر لحاظ سے خیر ہی خیر ہے، اس قدر خیر کہ جس انسان کو یہ مل گئی اسے دنیا و آخرت کی سب بھلائیاں مل گئیں اور جو اس سے محروم رہا وہ خیر و بھلائی سے یکسر محروم اور خالی ہاتھ ہو گیا۔ گویا نرم مزاجی خیر و بھلائی کی جڑ اور اس کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے ہر وقت خیر ہی خیر پھوٹتی ہے، جس انسان کی طبیعت میں نرمی ہو وہ ہر کسی کے لیے نرم ہوگا، نتیجتاً وہ خود بھی سکون میں رہے گا اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دے گا اور جس کی طبیعت میں سختی ہو وہ ہر کسی کے لیے سخت ہوگا، نیتجتا وہ اپنی زندگی کو خود ہی اپنے لیے عذاب بنالے گا۔
مومن کے میزان میں روز قیامت سب سے بھاری اور وزنی چیز اس کے اچھے اخلاق ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ انسان کے اخلاق تبھی اچھے ہوں گے جب اس کے اندر نرمی ہوگی گویا نرم مزاجی حسن اخلاق کی بنیاد ہے، جس کے اندر نرمی نہیں اس کے اخلاق کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے وہ بد اخلاق اور فحش گو ہوگا اور ایسا شخص اللہ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔