کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا
حدیث نمبر: 441
441 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّقَّاقُ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَمْرِو بْنُ الْحُصَيْنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَاوِشِ أَذْهَبَهُ اللَّهُ فِي نَهَابِرَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوسلمہ حمصی سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا۔“
حدیث نمبر: 442
442 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ، إِجَازَةً، نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، نا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، نا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، نا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَاوِشَ أَذْهَبَهُ اللَّهُ فِي نَهَابِرَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوسلمہ حمصی سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا۔“
حدیث نمبر: 443
443 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الصُّوفِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ فِلَسْطِينَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَيْدَرِيُّ الْمِصْرِيُّ الْعَسْقَلَانِيُّ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَانَ بْنِ شَدَّادٍ، نا أَبُو الدَّرْدَاءِ هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، عَنِ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمُعَاوِيَةُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَيُّكُمْ شَاءَ فَلْيَبْدَأْ فَلْيَتَحَدَّثْ بِحَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ وَوَعَاهُ قَلْبُهُ قَالَا: ابْدَأْ فَحَدِّثْنَا أَنْتَ بِمَا تَحْفَظُ، قَالَ: أَفْعَلُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكَفَّلُوا لِي بِسِتٍّ أَتَكَفَّلُ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ، إِذَا حُدِّثْتُمْ فَلَا تَكْذِبُوا، وَإِذَا وَعُدْتُمْ فَلَا تُخْلِفُوا، وَإِذَا ائْتُمِنْتُمْ فَلَا تَخُونُوا، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ» فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: حَدِّثْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ثَلَاثَةٌ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ أَيْدِيهِمْ إِلَى أَعْنَاقِهِمُ: الْأَمِيرُ، وَالْقَاضِي وَالْعَرِيفُ، لَا يَفُكُّهُمْ مِنَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ، وَجَائِرُهُمْ فِي النَّارِ أَشَدُّهَا حُرًّا، وَأَبْعَدُهَا قَعْرًا " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا ضَجَّتِ الْأَرْضُ ضَجِيجَهَا مِنْ غُسْلِ جَنَابَةٍ مِنْ حَرَامٍ أَوْ سَفْكِ دَمٍ حَرَامٍ، وَمَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَابِرَ أَهْلَكَهُ اللَّهُ فِي نَهَاوِشَ، وَمَنْ غَدَا أَوْ رَاحَ إِلَى أَبْنَاءِ الدُّنْيَا لِطَمَعِ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَهُوَ مِمَّنِ اتَّخَذَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا، وَمَنْ حَضَرَ سُلْطَانًا يَتَكَلَّمُ بِمَا يَهْوَى خِلَافًا لِلْحَقِّ كَانَ قَرِينَهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ سَعَى بِأَخِيهِ عِنْدَ سُلْطَانٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ رَحْمَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَرَمَى مُعَاوِيَةُ بِنَفْسِهِ عَنِ السَّرِيرِ، ثُمَّ دَخَلَ وَتَفَرَّقَ عَنْهُ النَّاسُ فَأَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَمَدَا إِلَى أَشَدِّ مَا يَحْضُرُهُمَا مِنَ الْحَدِيثِ فَصَدَمَانِي بِهِ، فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ سَمِعْتُ مَعَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزِيَادَةَ أَسْقَطَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَهَا: وَمَا هُوَ؟، قَالَتْ: «مَنْ أَحْسَنَ فَلِنَفْسِهِ، وَمَنْ أَسَاءَ فَلِنَفْسِهِ» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ: فَمَنْ يَحْرِصْ عَلَى الْإِمَارَةِ وَالْقَضَاءِ وَالْعَرَافَةِ بَعْدَ قَوْلِكَ هَذَا؟، قَالَ: شِرَارُ عَبَّادِ اللَّهِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ} [البقرة: 200]
ترجمہ:محمد ارشد کمال
قرظی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابوسعید خدری اور معاویہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے جو چاہے وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرنے سے ابتداء کرے جسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، اس کے کانوں نے وہ حدیث سنی ہو، دل نے محفوظ رکھی ہو۔ وہ دونوں (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: ابتداء آپ کیجیے، آپ ہمیں وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے یاد رکھی ہو۔ انہوں نے کہا: میں ایسا کرتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: جب بات کرو تو جھوٹ نہ بولو، وعدہ کرو تو خلاف ورزی نہ کرو، جب امانت پکڑو تو خیانت نہ کرو اور اپنی نظروں کو جھکا کر رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھ (ظلم سے) روک لو۔“ پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوہریرہ! اب آپ بیان کیجیے تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تین قسم کے لوگوں کو اس حال میں اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے بندھے ہوئے ہوں گے: حاکم، قاضی اور سردار۔ انہیں (اس کیفیت سے) ان کا عدل ہی رہائی دلا سکے گا اور ان میں سے جس نے ظلم کیا ہوگا وہ جہنم میں سب سے زیادہ سخت آگ اور سب سے زیادہ گہرائی میں ہوگا۔“ (پھر) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”زمین اتنا کبھی نہیں تھر تھراتی جتنا زناکاری کے غسل جنابت یا ناحق قتل سے تھر تھراتی ہے اور جو شخص حرام ذرائع سے مال حاصل کرے اللہ اسے لوگوں کی حق تلفیوں میں اس سے ضائع کرا دیتا ہے اور جو شخص صبح یا شام دنیاداروں کے پاس حصول دنیا کے لیے جائے وہ اسے حاصل تو کر لیتا ہے لیکن (حقیقتاً) وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اور جو شخص کسی حاکم کے پاس جا کر اس کی خواہش کے مطابق خلاف حق گفتگو کرے تو وہ جہنم میں اس کا ساتھی ہوگا اور جو شخص حاکم کے پاس اپنے بھائی کی چغلی کھائے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنی رحمت حرام کر دے گا۔“ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا، لوگ اٹھ کر چلے گئے تو آپ اپنی بہن ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور جا کر ان سے شکوہ کیا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جان بوجھ کر مجھے ایسی سخت احادیث سنائی ہیں جن سے مجھے شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ سن چکی ہوں جس کا ابوہریرہ نے ذکر نہیں کیا۔ معاویہ نے دریافت کیا: وہ کیا؟ فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے کوئی برا عمل کیا تو وہ بھی اسی کے لیے ہے۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی بیان کردہ اس حدیث کے بعد کون ہے جو حکمرانی، قضاء اور سرداری (جیسے عہدوں) کو پسند کرے؟ فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جو یوں کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں ہی دے دے اور ان کے لیے آخرت میں کچھ نہیں۔“