کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھاگیا جسے وہ جانتا تھا لیکن اس نے اسے چھپایا (اور بتایا نہیں) اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی
حدیث نمبر: 432
432 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ النَّحَّاسِ، قَالَ: ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو يَحْيَى، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سُئِلَ، عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھا گیا جسے وہ جانتا تھا لیکن اس نے اسے چھپایا (اور نہ بتایا) اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 433
433 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْفَسَوِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، نا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَجَلِيُّ الْأَزْرَقُ، نا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنَ الْوَافِدِينَ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ اور وہ (قیس کے والد) ان لوگوں میں سے تھے جو وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھا گیا لیکن اس نے اسے چھپایا اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں ایسے شخص کے بارے میں وعید فرمائی گئی ہے جس سے کسی دینی مسئلے کے متعلق سوال ہوا اور سائل کو جواب کی ضرورت بھی تھی لیکن اس نے علم ہونے کے باوجود سائل کو مسئلہ نہیں بتایا، گویا اس نے اپنے منہ میں لگام ڈالی ہو لہٰذا قیامت کے دن سزا بھی گناہ کے مطابق ہی ملے گی کہ منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی شرعی عذر ہو یا فساد وغیرہ کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں حکمت سے کام لیتے ہوئے بعض باتیں نہ بتانا بھی جائز ہے لیکن اہم موقع اور ضروری بیان کے وقت علم کو چھپانا جائز نہیں بلکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو اس کی پاداش میں جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے، قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہماری عبرت کے لیے ہے، فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ٭ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾(البقرة: 159- 160)
” بے شک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے اتارا ہے اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے ایسے لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔ “
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر قرآن مجید میں یہ دو آیتیں نہ ہو تیں تو میں کبھی تم سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ “ [بخاري: 2350]
اس حدیث میں ایسے شخص کے بارے میں وعید فرمائی گئی ہے جس سے کسی دینی مسئلے کے متعلق سوال ہوا اور سائل کو جواب کی ضرورت بھی تھی لیکن اس نے علم ہونے کے باوجود سائل کو مسئلہ نہیں بتایا، گویا اس نے اپنے منہ میں لگام ڈالی ہو لہٰذا قیامت کے دن سزا بھی گناہ کے مطابق ہی ملے گی کہ منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی شرعی عذر ہو یا فساد وغیرہ کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں حکمت سے کام لیتے ہوئے بعض باتیں نہ بتانا بھی جائز ہے لیکن اہم موقع اور ضروری بیان کے وقت علم کو چھپانا جائز نہیں بلکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو اس کی پاداش میں جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے، قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہماری عبرت کے لیے ہے، فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ٭ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾(البقرة: 159- 160)
” بے شک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے اتارا ہے اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے ایسے لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔ “
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر قرآن مجید میں یہ دو آیتیں نہ ہو تیں تو میں کبھی تم سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ “ [بخاري: 2350]