کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا
حدیث نمبر: 423
423 - أَخْبَرَنَا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ بِمَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا۔“
حدیث نمبر: 424
424 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی اس کے لیے روز قیامت عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا، اس عمر میں بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نہ حاصل کر سکا، توحید نہ سمجھ پایا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں جہالت اور لاعلمی کا عذر نہیں پیش کر سکے گا، ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود بھی اگر اس کی زندگی گناہوں سے آلودہ ہے کفر و شرک کی دلدلوں میں غرق ہے اور صحیح راستے کی طرف نہیں آیا تو قیامت کے دن اس کا کوئی عذر بہانہ نہیں چلے گا۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 252۔
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی اس کے لیے روز قیامت عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا، اس عمر میں بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نہ حاصل کر سکا، توحید نہ سمجھ پایا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں جہالت اور لاعلمی کا عذر نہیں پیش کر سکے گا، ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود بھی اگر اس کی زندگی گناہوں سے آلودہ ہے کفر و شرک کی دلدلوں میں غرق ہے اور صحیح راستے کی طرف نہیں آیا تو قیامت کے دن اس کا کوئی عذر بہانہ نہیں چلے گا۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 252۔