کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جسے قاضی بنایا گیا حقیقت میں اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا ۔
حدیث نمبر: 395
395 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ النَّحَّاسِ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» هَذَا الْحَدِيثُ فِي فَوَائِدِ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ، وَفِيهِ: «فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» وَهُوَ فِي حَدِيثِ الزَّعْفَرَانِيِّ بِحَذْفٍ فَقَدْ، وَرَأَيْتُهُ فِي مُعْجَمِ شُيُوخِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ فَذَكَرَ فِيهِ فَقَدْ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قاضی بنایا گیا حقیقتاً اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا۔“ یہ حدیث فوائد ابن الاعرابی میں بھی ہے اور اس میں ہے: ”پس حقیقتاً اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا۔“ اور زعفرانی کی حدیث میں یہ لفظ ”فقد“ (حقیقتاً) کے بغیر ہے۔ اور میں نے اسے سفیان ثوری کے شیوخ کی معجم میں عمارہ بن غزیہ عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے دیکھا ہے، انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور اس میں ”فقد“ (حقیقتاً) کا لفظ موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 395
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ،وأخرجه المعجم الصغير : 491، و أبو داود : 3572 ، وابن ماجه : 2308 ، وبزار : 8473»
حدیث نمبر: 396
396 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عہدہ قضاء پر فائز ہوا حقیقتاً اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا۔“
وضاحت:
تشریح: -
جسے عہدہ قضا دیا گیا گویا اسے چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ چھری کے ساتھ ذبح کرنے سے مذبوح کو اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی چھری کے بغیر ذبح کرنے سے ہوتی ہے۔ اس حدیث میں دراصل قاضی اور جج بننے کی خواہش سے بچانا مقصود ہے، کیونکہ جو شخص قاضی بنا، اس نے اپنی جان اور اپنے دین وایمان کو خطرے میں ڈال دیا کہ اگر فیصلہ صحیح کرے تو دنیا والے ناراض ہو کر اس کے درپے ہوں گے اور اگر غلط کرے تو اخروی عذاب ہے لہٰذا جو شخص قاضی بنتا ہے یا عہدہ قضا کی خواہش رکھتا ہے وہ اپنی جان اور دین کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے گویا خود کو چھری کے بغیر ہی ذبح کرنے کے لیے پیش کر
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 396
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أبو داود : 3571 ، وترمذي : 1325، وابويعلي : 5866»