باب: ہر انسان اپنے نفس کا خود محاسب ہے
حدیث 201–201
باب: ہر آنے والی چیز نزدیک ہے
حدیث 202–202
باب: ہر آنکھ زانیہ ہے
حدیث 203–203
باب: ہر چیز تقدیر سے ہے حتی کہ عاجزی اور عقل مندی بھی
حدیث 204–204
باب: ہر صاحب علم علم کا بھوکا ہے
حدیث 205–205
باب: ہر چیز کا ستون ہوتا ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے
حدیث 206–207
باب: تشویش میں ڈالنے والی ہر چیز حرام ہے اور دین میں کوئی بھی تشویشناک امر نہیں
حدیث 208–208
باب: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے
حدیث 209–209
باب: قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لیے اس کی عہد شکنی کے مطابق جھنڈا ہو گا
حدیث 210–211
باب: قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونوں کے بارے میں فیصلے ہوں گے
حدیث 212–212
باب: سب سے پہلے نماز کا حساب لیاجائے گا
حدیث 213–213
باب: ترازو میں سب سے پہلے حسن خلق کو رکھا جائے گا
حدیث 214–214
باب: س امت سے سب سے پہلے حیاء اور امانت اٹھائی جائے گی
حدیث 215–215
باب: تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے
حدیث 216–217
باب: محبت بھی ورثہ میں ملتی ہے اور نفرت بھی ورثہ میں ملتی ہے
حدیث 218–218
باب: کسی چیز کی محبت تجھے اندھا اور بہرا بنا دے گی
حدیث 219–219
باب: ہدیہ سماعت اور بصارت لے جاتا ہے
حدیث 220–220
باب: گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر باندھ دی گئی ہے
حدیث 221–223
باب: گھوڑوں کی برکت ان کے سرخ رنگ میں ہے
حدیث 224–224
باب: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے
حدیث 225–225
باب: عورتوں کی اطاعت کرنا پچھتاوا ہے
حدیث 226–226
باب: مصیبت بولنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے
حدیث 227–228
باب: روزہ نصف صبر ہے اور ہر چیز پر زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے
حدیث 229–229
باب: روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی
حدیث 230–230
باب: سردی کے موسم میں روزہ ٹھنڈی غنیمت ہے
حدیث 231–231
باب: مسواک کرنے سے آدمی کی فصاحت میں اضافہ ہوتا ہے
حدیث 232–232
باب: آدمی کی خوبصورتی اس کی زبان کی فصاحت میں ہے ۔
حدیث 233–233
باب: امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امانت دار ہے
حدیث 234–234
باب: قیامت کے دن مؤذن حضرات کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی
حدیث 235–235
باب: میری سفارش میری امت کے کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے ہے
حدیث 236–237
باب: انصار میرے مخلص ساتھی اور ہم راز ہیں
حدیث 238–238
باب: جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے
حدیث 239–239
باب: خاموشی حکمت ہے اور اسے کرنے والے بہت کم ہیں
حدیث 240–240
باب: رزق بندے کو اس کی موت سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ طلب کرتا ہے
حدیث 241–241
باب: معیشت میں نرمی بعض تجارت سے بہتر ہے
حدیث 242–242
باب: بزدل تاجر محروم رہتا ہے اور جرات مند تاجر پا لیتا ہے
حدیث 243–243
باب: وش اخلاقی ترقی (کا باعث ہے ) اور بداخلاقی نحوست ہے
حدیث 244–245
باب: دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے ہلکی ہے
حدیث 246–246
باب: قبرآخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے
حدیث 247–248
باب: صبر پہلی چوٹ کے وقت ہے
حدیث 249–249
باب: بیٹیوں کو (موت کے بعد ) دفنانا عزت و شرف کاباعث ہے
حدیث 250–250
باب: موت کا میدان جنگ ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ( والی عمر ) ہے
حدیث 251–251
باب: میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں
حدیث 252–252
باب: مکر وفریب اور دھو کے بازی ( کرنے والا ) آگ میں ہوگا
حدیث 253–254
باب: جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر چھوڑتی ہے
حدیث 255–255
باب: جھوٹی قسم سے سودا فروخت ہو جاتا ہے لیکن وہ کمائی کو ختم کر دیتی ہے
حدیث 256–258
باب: قسم ، قسم کھلانے والے کی نیت پر ہوتی ہے
حدیث 259–259
باب: قسم توڑنا ہوتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے
حدیث 260–261
باب: سلام ہماری ملت کے لیے تحفہ اور ہمارے ذمیوں کے لیے امان ہے
حدیث 262–262
باب: جس علم سے نفع نہ اٹھایا جائے وہ اس خزانے کی مانند ہے جس میں سے خرچ نہ کیا جائے
حدیث 263–263
باب: کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والے کے لیے صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر اجر ہے
حدیث 264–264
باب: نماز ہر متقی شخص کے لئے نزدیکی کا وسیلہ ہے
حدیث 265–265
باب: بندے اور کفر کے درمیان (فرق) نماز چھوڑنا ہے
حدیث 266–267
باب: دین میں نماز کا مقام ایسا ہی ہے جیسے بدن میں سرکا ہے
حدیث 268–268
باب: یٹھ کر نماز پڑھنے کا اجر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے آدھا ہے
حدیث 269–269
باب: زکوٰۃ اسلام کا خزانہ ہے
حدیث 270–270
باب: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ پوشیدہ ہو اور خوشبو پھیلتی ہو ، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو پوشیدہ ہو ۔
حدیث 271–272
باب: مٹی بچوں کی بہار ہے
حدیث 273–273
باب: روحیں جمع شدہ لشکر ہیں ، جن کا وہاں ( عالم ارواح میں ) آپس میں تعارف ہو گیا وہ یہاں (دنیا میں ) ایک دوسرے سے الفت رکھتی ہیں اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف رہیں وہ یہاں ایک دوسرے کے خلاف رہتی ہیں
حدیث 274–274
باب: سچائی (میں) اطمینان ہے اور جھوٹ (میں) شک ہے
حدیث 275–275
باب: قرآن تو نگری ہے اس کے بعد کوئی فقر وفاقہ نہیں اور نہ ہی اس کے بغیر غنا ہے
حدیث 276–276
باب: تقدیر پر ایمان رنج وغم کو دور کر دیتا ہے
حدیث 277–277
باب: دنیا سے بے رغبتی قلب و بدن کو راحت پہنچاتی ہے اور دنیا میں رغبت رنج وغم کو بڑھاتی ہے اور نکما پن دل کوسخت کر دیتا ہے
حدیث 278–278
باب: عالم اور متعلم دونوں خیر و بھلائی میں شریک ہیں
حدیث 279–279
باب: ہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے (عاریتاً) لیا یہاں تک کہ اسے ادا کر دے
حدیث 280–281
باب: بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہے
حدیث 282–283
باب: مہمان نوازی دیہاتیوں پر (واجب) ہے اور شہریوں پر (واجب) نہیں
حدیث 284–284
باب: سائل کا حق ہے اگر چہ وہ گھوڑے پر سوار ہوکر آئے
حدیث 285–285
باب: بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے
حدیث 286–287
باب: پنی ہبہ کرده چیز واپس لینے والا شخص اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی قے چاٹنے لگے
حدیث 288–288
باب: سبزہ کی طرف دیکھنا بصارت میں اضافہ کرتی ہے اور خوبصورت عورت کی طرف دیکھنا بھی بصارت میں اضافہ کرتی ہے
حدیث 289–289
باب: روز قیامت میری امت اس حال میں آئے گی کہ ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے نشانات سے چمک رہے ہوں گے
حدیث 290–290
باب: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے
حدیث 291–291
باب: نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے
حدیث 292–293
باب: گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہے
حدیث 294–294
باب: دونعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں (ان میں سے ایک ) صحت ہے اور (دوسری) فراغت ہے
حدیث 295–295
باب: عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے
حدیث 296–296
باب: بزدلی اور بہادری ( کے اوصاف) فطرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ ٰ جس شخص میں چاہتا ہے انہیں رکھ دیتا ہے
حدیث 297–297
باب: صدقہ ، امراض اور مصائب کو چھپانا نیکی کے خزانے میں سے ہے
حدیث 298–298
باب: انسان کی سعادت مندی میں سے ہے کہ وہ اپنے باپ کے مشابہ ہو
حدیث 299–299
باب: سن خلق انسان کی سعادت مندی میں سے ہے
حدیث 300–300
باب: دنیا میں بھلائی والے آخرت میں بھی بھلائی والے ہیں
حدیث 301–301
باب: امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کی راہ میں ) دے دے جس کا اسے حکم ملا ہو تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
حدیث 302–303
باب: بادشاہ زمین پر اللہ کا سایہ ہے ہر مظلوم اس کی طرف پناہ پکڑتا ہے
حدیث 304–304
باب: ابن آدم کی ہر بات اس کے خلاف پڑتی ہے ، اس کے حق میں نہیں جاتی سوائے نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے
حدیث 305–305
باب: کام میں سوچ و بچار ، ثابت قدمی ، میانہ روی اور خاموشی نبوت کا چھبیسواں حصہ ہیں
حدیث 306–306
باب: انبياء علیہم السلام قائد ہیں ، فقہاء سردار ہیں اور ان کی مجلسوں میں بیٹھنا ( علم میں ) اضافے کا باعث ہے
حدیث 307–307
باب: ایسی چیز ظاہر کرنے والا جس کا وہ مالک نہ ہو ، جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (دھو کے باز ) کی مانند ہے ۔
حدیث 308–309
باب: کھانے سے پہلے وضو کرنا فقر کو دورکرتا ہے اور کھانے کے بعد (وضو کرنا ) صغیرہ گناہوں کومٹاتا ہے اور نظر کو درست کرتا ہے
حدیث 310–310
باب: قصہ گو غضب (الہٰی) کا منتظر رہتاہے اور اسے سننے والا رحمت کا منتظر رہتا ہے ۔ تاجر رزق کا منتظر رہتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت کا منتظر رہتا ہے ۔
حدیث 311–311
باب: الله عزوجل کی اطاعت میں لمبی عمر پانا سعادت ہی سعادت ہے
حدیث 312–312
باب: جس شخص کو قیامت نے زندہ پا لیا (یعنی) وہ مرا نہیں تھا ، اس کی بدبختی ہی بدبختی ہے
حدیث 313–313
باب: جو شخص اپنے اہل و عیال کو مال ( حرام ) دے کر چھوڑ گیا اور خود گناہ لے کر اپنے رب سے جاملا ، اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے
حدیث 314–314
باب: مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے اگر چہ وہ فاسق ہی ہو کیونکہ اس کا فسق ( کا وبال ) اس کی اپنی ذات پر ہے
حدیث 315–315
باب: تین (آدمیوں کی) دعائیں (ضرور) قبول ہوتی ہیں ان ( کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں : مظلوم کی بد دعا ، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد پر بد دعا
حدیث 316–316
باب: قاضی تین طرح کے ہیں ، دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی ہے
حدیث 317–317
باب: دو اچھی عادتیں منافق میں نہیں ہو سکتیں : اچھی سیرت اور دین میں سمجھ بوجھ
حدیث 318–318
باب: دو بری عادتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں : بخل اور بد اخلاقی
حدیث 319–319
باب: دو طرح کی آنکھوں کو (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی : ایک وہ آنکھ جو آدھی رات کے وقت اللہ کے ڈر سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جورات کے وقت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی
حدیث 320–321
باب: دو طرح کے بھوکے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے : ایک علم طالب اور دوسرا دنیا کا طالب
حدیث 322–322
باب: بوڑھا آدمی دو چیزوں کی محبت میں (ہمیشہ ) جوان رہتا ہے : لمبی زندگی کی محبت میں اور کثرت مال (کی محبت میں )
حدیث 323–323
باب: چار آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ کونفرت ہے : قسمیں اٹھا اٹھا کر مال فروخت کرنے والا ، متکبر فقیر ، بوڑھا زانی اور ظالم حکمران
حدیث 324–324
باب: تین چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ۔ پس ہلاک کر دینے والی تین چیزیں یہ ہیں : (۱) بخل ، جس کی اطاعت کی جائے (۲) خواہش نفس ، جس کے پیچھے چلاجائے (۳) اور انسان کا اپنی تعریف سن کر خوش ہونا ۔ اور نجات دلانے والی تین چیزیں یہ ہیں : (۱) پوشیدہ و علانیہ ( ہر حال ) میں اللہ سے ڈرنا (۲) مالداری اور محتاجی (دونوںحالتوں ) میں میانہ روی اختیار کرنا (۳) خوشی اور غصے کی حالت میں عدل وانصاف سے کام لینا
حدیث 325–327
باب: آپس میں گالی گلوچ کرنے والے جو بھی کہیں تو (اس کاوبال ) پہل کرنے والے پر ہوگا جب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے
حدیث 328–329
باب: میں ( روز قیامت) حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا
حدیث 330–331
باب: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والاجنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا
حدیث 332–332
باب: میں ڈر سنانے والا ہوں ، موت تباہی مچانے والی ہے اور قیامت وعدے کا وقت ہے
حدیث 333–333
باب: جس نے خاموشی اختیارکی وہ نجات پا گیا
حدیث 334–334
باب: جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرے ، اللہ اسے رفعت سے نوازتا ہے اور اور جو شخص تکبر اختیار کرے ، اللہ عز وجل اسے پستی کا شکار کر دیتا ہے
حدیث 335–335
باب: جو شخص اللہ پر جھوٹی قسم اٹھائے گا، اللہ اسے جھوٹا ثابت کرے گا ، اور جو شخص معاف کر دے گا اللہ بھی اسے معاف کر دے گا، اور جو کوئی درگزر کرے گا اللہ بھی اس سے درگزر کرے گا ، اور جو شخص مصیبت پر صبر کرے گا اللہ اسے بہتر بدلہ دے گا، اور جو کوئی غصہ پی لے گا اللہ اسے اجر دے گا
حدیث 336–336
باب: اور جس نے (اللہ کی نعمتوں کی قدر کی اللہ اسے ( مزید نعمتوں سے ) نوازے گا اور جس نے فضول خرچی کی اللہ اسے ( نعمتوں سے ) محروم کر دے گا
حدیث 337–337
باب: جس سے حساب میں (مکمل ) پوچھ گچھ کی گئی اسے عذاب ہوگا
حدیث 338–338
باب: جس نے جنگل میں جا کر رہائش اختیار کی وہ سخت دل ہوا ، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہوا ، اور جو حاکم کے دروازوں پر گیا وہ فتنے میں مبتلا ہو گیا
حدیث 339–339
باب: جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو گیا وہ شہید ہے
حدیث 340–340
باب: جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں قتل ہو گیا وہ شہید ہے
حدیث 341–341
باب: جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں قتل ہوگیا وہ شہید ہے
حدیث 342–343
باب: اللہ تعالیٰ ٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے اپنی طرف سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے
حدیث 344–344
باب: اللہ تعالیٰ ٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ ( سمجھ بوجھ ) عطا فرماتا ہے
حدیث 345–346
باب: للہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کا خلق اچھا کر دیتا ہے
حدیث 347–347
باب: جوشخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ نیکیوں میں جلدی کرتا ہے اور جو جہنم سے خوفزدہ ہوتا ہے وہ خواہشات سے لا پروا ہو جاتا ہے اور جو موت کا خیال رکھتا ہے وہ لذتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور جو دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے اس پر مصیبتیں ہلکی ہو جاتی ہیں
حدیث 348–348
باب: جو شخص پردیس میں مراوہ شہادت کی موت مرا
حدیث 349–349
باب: جس شخص نے غلاموں پر فخر کیا اللہ تعالیٰ ٰ اسے رسوا کرے گا
حدیث 350–350
باب: جس شخص نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 351–354
باب: جس نے رات کے وقت ہم پر تیر چلایا وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 355–355
باب: جو شخص اپنی مونچھیں نہیں کترواتا وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 356–358
باب: جس نے ہمارے اس حکم ( دین ) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے
حدیث 359–361
باب: جس نے سوچ و بچار سے کام لیا وہ (حق کو ) پہنچ گیا ، یا (حق کے ) قریب ہو گیا اور جس نے جلد بازی کی اس نے خطا کھائی یا ( خطا کے ) قریب ہو گیا
حدیث 362–363
باب: جوشخص نیکی بوئے گا وہ رغبت کی فصل کاٹے گا اور جو برائی بوئے گا وہ ندامت کی فصل کاٹے گا
حدیث 364–365
باب: جسے اپنے بعد اچھائی کا یقین ہو وہ عطیہ کرے
حدیث 366–366
باب: جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سے زیادہ طاقت ور ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسا ر کھے اور جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غنی اور مالدار ہو تو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر اپنا اعتماد اور یقین اس سے زیادہ کرے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے
حدیث 367–368
باب: جس شخص نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اسے ترک کر دیا ، اس کے لیے ایک نیکی ہے
حدیث 369–369
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے تو وہ اس پر ضرور نظر آئے
حدیث 370–370
باب: جسے سلامتی سے رہنا پسند ہو اسے چاہیے کہ خاموشی لازم پکڑے
حدیث 371–371
باب: جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے
حدیث 372–374
باب: جس شخص کو کسی ذریعے سے رزق ملے تو اسے چاہیے کہ اس ( ذریعے ) کو لازم پکڑ لے
حدیث 375–375
باب: جس کی طرف کوئی نعمت بھیجی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا شکر یہ ادا کرے
حدیث 376–376
باب: و شخص تھوڑی چیز ( ملنے ) پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادانہیں کرتا
حدیث 377–377
باب: جس نے کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کی تو اس کے لیے اس ( مصیبت زدہ) کے برابر اجر ہے
حدیث 378–381
باب: جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کرائی اس کے لیے اس ( روزہ دار ) کے برابر اجر ہے
حدیث 382–382
باب: جس نے میری امت پر نرمی کی اللہ تعالیٰ اس پر نرمی کرے
حدیث 383–383
باب: جس نے کسی مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہتاہے
حدیث 384–385
باب: جس نے اپنے ظالم پر بد دعا کی تو بے شک اس نے (اپنے ظلم کا ) بدلہ لے لیا
حدیث 386–388
باب: جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا تو بے شک اس نے بھی جرم کیا
حدیث 389–389
باب: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے
حدیث 390–390
باب: جو شخص علم حاصل کرتا ہے اللہ اس کے رزق کا کفیل بن جاتا ہے
حدیث 391–391
باب: جسے اس کے علم نے نفع نہ دیا اسے اس کا جہل نقصان دے گا
حدیث 392–392
باب: جسے اس کے عمل نے پیچھے کر دیا اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکتا
حدیث 393–394
باب: جسے قاضی بنایا گیا حقیقت میں اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا ۔
حدیث 395–396
باب: جس شخص نے اپنا بوجھ خود اٹھایا بے شک وہ تکبر سے بری ہو گیا
حدیث 397–397
باب: جس شخص نے اس دین میں سخت راہ اختیار کی تو یہ ( دین ) اس پر غالب آ جائے گا
حدیث 398–398
باب: جس شخص نے شفاعت کو چھٹلایا وہ روز قیامت اسے حاصل نہ کرسکے گا
حدیث 399–399
باب: جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور برائی رنجیدہ کر دے وہ مومن ہے
حدیث 400–404
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔