حدیث نمبر: 384
384 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَاصِمٌ، هُوَ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: «جَنَاهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! خرفہ جنت کیا ہے؟ فرمایا: ”اس کے میوہجات۔“
حدیث نمبر: 385
385 - وأنا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الْمُفَسِّرِ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْقَاضِي، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ , عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہتا ہے حتیٰ کہ واپس لوٹ آئے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں مریض کی عیادت کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ بندہ جب تک کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے اس کے پاس بیٹھا رہتا ہے تو گویا وہ اتنی دیر جنت کے میوہ جات میں بیٹھا رہتا ہے یعنی اس پر مسلسل ثواب اور اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا رہا ہے۔ حدیث مبارک میں ہے ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی اس نے رحمت الہی میں غوطہ لگا دیا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس بیٹھ گیا تو (گویا) اس نے رحمت میں مستقل جگہ بنالی۔ “ [الادب المفرد: 522صحيح]
اس حدیث میں مریض کی عیادت کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ بندہ جب تک کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے اس کے پاس بیٹھا رہتا ہے تو گویا وہ اتنی دیر جنت کے میوہ جات میں بیٹھا رہتا ہے یعنی اس پر مسلسل ثواب اور اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا رہا ہے۔ حدیث مبارک میں ہے ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی اس نے رحمت الہی میں غوطہ لگا دیا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس بیٹھ گیا تو (گویا) اس نے رحمت میں مستقل جگہ بنالی۔ “ [الادب المفرد: 522صحيح]