کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: و شخص تھوڑی چیز ( ملنے ) پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادانہیں کرتا
حدیث نمبر: 377
377 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ، وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تھوڑی چیز پر شکر ادا نہ کرے وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہ کرے اور جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہ کرے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس انسان کے اندر احسان مندی اور شکر گزاری کا مزاج ہو گا وہ ہر جگہ شکر ادا کرے گا، اسے چیز تھوڑی ملے یا زیادہ، کسی نے اس پر کم احسان کیا ہو یا زیادہ، وہ ہر نعمت اور ہر احسان پر شکر ادا کرے گا۔ اپنے منعم حقیقی اللہ تعالیٰ کا بھی اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بھی جو اس کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بنے ہیں۔ اور جو شخص احسان مندی اور شکر گزاری کے جوہر سے محروم ہو، اس سے بھلا کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی کا شکر ادا کرے؟ کیونکہ اس کی عادت میں ناشکری ہی داخل ہے اور جس کی عادت میں ناشکری داخل ہو وہ تھوڑا چھوڑ بہت پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اس کے سامنے لوگ تو کیا وہ منعم حقیقی اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه أحمد : 4/ 278، وشعب الايمان : 8698»