کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر: 372
372 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَرَّاقُ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ دِمَشْقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الْبَغْدَادِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُشْنَانِيُّ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثَ صَاحِبُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا عِيسَى بْنُ مُوسَى يَعْنِي غُنْجَارَ عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، أَلَا فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔ سنو! جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حدیث نمبر: 373
373 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ السَّاكِنُ، كَانَ بِتِنِّيسَ فِيمَا أَجَازَهُ لَنَا، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْحَدَّادُ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ هُوَ ابْنُ الْعَيْزَرَانِ الْأُشْنَانِيُّ، نا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثَ صَاحِبُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ مُوسَى، ثنا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔ اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حدیث نمبر: 374
374 - أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا أَبُو عَبَّادٍ، ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ التُّسْتَرِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَامِدٍ الْحَنَفِيُّ، نا عُبَيْدَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ كَذِبُهُ، وَمَنْ كَثُرَ كَذِبُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ: أَحْسَبُ هَذَا الْحَدِيثَ وَهْمًا لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَلَسْتُ أَحْفَظُهُ مُسْنَدًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ، فَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا بِهِ ابنُ دُرَيْدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ نَصْرٍ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، نا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْأَحْنَفِ هُوَ ابْنُ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: يَا أَحْنَفُ، مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ، وَمَنْ فَرِحَ اسْتُخِفَّ بِهِ، وَمَنْ أَكْثَرَ مِنْ شَيْءٍ عُرِفَ بِهِ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ فَلْتَةً "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوگا اور جس کا جھوٹ زیادہ ہوگا اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔“ ابواحمد نے کہا: میں اس حدیث کو وہم سمجھتا ہوں، کیونکہ یہ بات صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ حفظ کیا ہے۔ باقی رہی حدیث عمر، تو ہمیں وہ ابن درید نے اپنی سند کے ساتھ احنف بن قیس سے بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے عمر نے کہا: اے احنف! جس کا ہنسنا زیادہ ہو جائے اس کی ہیبت کم ہو جاتی ہے اور جو اترانا شروع کردے وہ حقیر سمجھا جانے لگتا ہے اور جو کسی چیز کی کثرت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ معروف ہوتا ہے۔ اور جو زیادہ گفتگو کرے اس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں اس کی حیا کم ہوگی اور جس کی حیا کم ہو اس کا تقویٰ کم ہوگا اور جس کا تقویٰ کم ہو اس کا دل مر جاوا اور اس کی موت اچانک آئے۔