حدیث نمبر: 370
370 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَاطِبِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آتَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَلْيُرَ عَلَيْهِ، وَلْيَبْدَأْ بِمَنْ يَعُولُ، وَلْيَرْضَخْ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَا تَلُمْ عَلَى كَفَافٍ، وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے تو وہ اس پر ضرور نظر آئے اور اس پر لازم ہے کہ اپنے عیال سے آغاز کرے اور بچا ہوا مال (دیگر غریبوں) کی طرف لوٹا دے اور کفایت کرنے والے کو ملامت نہ کرے اور اپنے آپ سے عاجز مت آئے۔“
وضاحت:
فائده: -
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کے اظہار کو پسند فرماتا ہے۔ “ [ترمذي: 2819، حسن]
ابوالاحوص کے والد کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے میرے بوسیدہ سے کپڑے دیکھے تو فرمایا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہر طرح کا مال ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو تجھ پر اس کے اثرات نظر آنے چاہئیں۔ “ [نسائي: 5226، صحيح]
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اپنے اہل خانہ سے آغاز کر (یعنی پہلے انہیں دے) اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی مالدار ر ہے اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اللہ اسے بچائے گا اور جو دوسروں (کے مال) سے بے نیاز رہتا ہے اسے اللہ بے نیاز کر دیتا ہے۔ “ [بخاري: 1427]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کے اظہار کو پسند فرماتا ہے۔ “ [ترمذي: 2819، حسن]
ابوالاحوص کے والد کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے میرے بوسیدہ سے کپڑے دیکھے تو فرمایا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہر طرح کا مال ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو تجھ پر اس کے اثرات نظر آنے چاہئیں۔ “ [نسائي: 5226، صحيح]
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اپنے اہل خانہ سے آغاز کر (یعنی پہلے انہیں دے) اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی مالدار ر ہے اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اللہ اسے بچائے گا اور جو دوسروں (کے مال) سے بے نیاز رہتا ہے اسے اللہ بے نیاز کر دیتا ہے۔ “ [بخاري: 1427]