کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جس نے ہمارے اس حکم ( دین ) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے
حدیث نمبر: 359
359 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ آزَادْمَرْدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ خَلَفٍ الْبَزَّارُ، صَاحِبُ أَبِي ثَوْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس حکم (دین) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“
حدیث نمبر: 360
360 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ، أنا الْفَرَبْرِيُّ، أنا الْبُخَارِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ سَعْدٍ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 361
361 - وَأَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَأْمُونٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارِيُّ، نا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابراہیم بن سعد نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح: -
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ مثلا: ➊ ”جس نے ہمارے اس حکم میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ “ [بخاري: 2697]
➋ ”جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ “ [شرح السنته: 103وسنده حسن]
➌ ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔ “ [المخلصيات لابي الطاهر: 439وسنده حسن]
➍ ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔ “ [مسلم: 1718]
ان جملہ مرویات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دین اسلام میں بدعات کی گنجائش قطعاً نہیں۔ یہ دین مکمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے ہم پر اپنی نعمت پوری فرما دی ہے اور ہمارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ اس دین میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی کہ جسے بعد والے آکر پورا کریں لہٰذا جو شخص دین کے نام پر کوئی ایسا کام کرے جس کی ادلہ شرعیہ میں کوئی دلیل نہ ہو تو وہ کام مردود ہے ثواب کے بجائے عذاب ہے اور ایسا کرنے والا بدعتی ہے۔
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ مثلا: ➊ ”جس نے ہمارے اس حکم میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ “ [بخاري: 2697]
➋ ”جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ “ [شرح السنته: 103وسنده حسن]
➌ ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔ “ [المخلصيات لابي الطاهر: 439وسنده حسن]
➍ ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔ “ [مسلم: 1718]
ان جملہ مرویات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دین اسلام میں بدعات کی گنجائش قطعاً نہیں۔ یہ دین مکمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے ہم پر اپنی نعمت پوری فرما دی ہے اور ہمارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ اس دین میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی کہ جسے بعد والے آکر پورا کریں لہٰذا جو شخص دین کے نام پر کوئی ایسا کام کرے جس کی ادلہ شرعیہ میں کوئی دلیل نہ ہو تو وہ کام مردود ہے ثواب کے بجائے عذاب ہے اور ایسا کرنے والا بدعتی ہے۔