کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والاجنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا
حدیث نمبر: 332
332 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَوَيْهِ الرَّازِيُّ، أنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث مبارک میں یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں یوں قریب قریب ہوں گے جس طرح انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی قریب قریب ہیں۔ یتیم کی پرورش کرنے والے کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت والی زبان سے بیان فرمائی ہے۔ یتیم اس نابالغ بچے اور بچی کو کہا جاتا ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہو، ایسے بچے کے سر پر دست شفقت رکھنے والے اور اپنے بچوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر اچھے طریقے سے کفالت کرنے اور اس کے مال کی حفاظت کرنے والے شخص کو جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب ملے گا۔
اس حدیث مبارک میں یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں یوں قریب قریب ہوں گے جس طرح انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی قریب قریب ہیں۔ یتیم کی پرورش کرنے والے کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت والی زبان سے بیان فرمائی ہے۔ یتیم اس نابالغ بچے اور بچی کو کہا جاتا ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہو، ایسے بچے کے سر پر دست شفقت رکھنے والے اور اپنے بچوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر اچھے طریقے سے کفالت کرنے اور اس کے مال کی حفاظت کرنے والے شخص کو جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب ملے گا۔