کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: دو طرح کے بھوکے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے : ایک علم طالب اور دوسرا دنیا کا طالب
حدیث نمبر: 322
322 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: طَالِبُ عِلْمٍ، وَطَالِبُ دُنْيَا "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو طرح کے بھوکے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے: ایک علم طالب اور دوسرا دنیا کا طالب۔“
وضاحت:
فائدہ: -
مشہور ثقہ تابعی امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دو طرح کے بھوکے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے: ایک علم کا حریص وہ اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا اور دوسرا دنیا کا حریص وہ اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ جسے آخرت کی فکر اور خیال رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ ٰ اس کے معاملات کے لیے کافی ہے اور وہ اس کے دل میں بے نیازی پیدا کر دیتا ہے، جسے دنیا کی فکر اور خیال رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ ٰ اس کے معاملات کو تاریک اور پریشان کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں غربت ڈال دیتا ہے پھر وہ صبح و شام فقیر ہی رہتا ہے۔ [دارمي: 331، صحيح]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 322
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه المعجم الكبير : 10388» ابوبکر داہری سخت ضعیف ہے ۔