کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جو شخص اپنے اہل و عیال کو مال ( حرام ) دے کر چھوڑ گیا اور خود گناہ لے کر اپنے رب سے جاملا ، اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے
حدیث نمبر: 314
314 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرْقُوبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا قَتَادَةُ بْنُ الْوَسِيمِ أَبُو عَوْسَجَةَ الطَّائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ آدَمَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَيْلُ كُلُّ الْوَيْلِ لِمَنْ تَرَكَ عِيَالَهُ بِخَيْرٍ وَقَدِمَ عَلَى رَبِّهِ بِشَرٍّ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے اہل و عیال کو مال (حرام) دے کر چھوڑ گیا اور خود گناہ لے کر اپنے رب سے جا ملا، اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔“
وضاحت:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر چہ اس حدیث کا معنی برحق ہے لیکن یہ موضوع ہے۔ اسے قتادہ سے ابراہیم بن أحمد عسکری نے روایت کیا اور وہ بھی اسی کی طرح مجہول ہے۔ [ميزان الاعتدال: 3/ 385]