کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کی راہ میں ) دے دے جس کا اسے حکم ملا ہو تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
حدیث نمبر: 302
302 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، أبنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کی راہ میں) دے دے جس کا اسے حکم ملا ہو تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري : 2260، ومسلم : 1023 ، نحوه ، والنسائي : 2561»
حدیث نمبر: 303
303 - وَأَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ خُرَّزَاذَ، أبنا عَلِيُّ بْنُ بَهْشَاذَ النَّجِيرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُنْفِذُ مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کی راہ میں) دے دے جس کا اسے حکم ملا ہو تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔“
وضاحت:
تشریح:
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ خدمت گزاروں میں سے جو کوئی بھی اپنے مالک کے حکم کے مطابق خوش دلی اور دیانت داری سے اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرے گا تو اسے بھی اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا مالک کو ملنا ہے، کیونکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مالک اپنے کسی خدمت گزار کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے مگر وہ آگے سے بخل اور کمینگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے مالک کو فقر ومحتاجی سے ڈرا کر صدقہ نہ کرنے کا مشورہ دینے لگ جاتا ہے، یا مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا نہیں دیتا بلکہ کم دیتا ہے اور یا پھر خوش دلی سے نہیں دیتا، تو جب اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے مالک کا حکم بجا لاتے ہوئے پوری دیانت داری اور دل کی خوشی سے صدقہ دیا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ بھی صدقہ کرنے والا ہی شمار ہوگا کیونکہ وہ بھی ایک ذریعہ اور سبب بنا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب مسلمان خدمت گزار کے حوالے سے ہے، کافر اس میں شامل نہیں، کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ مسلمان امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز دے دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ [بخاري: 1438]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري : 2260، ومسلم : 1023 ، نحوه ، والنسائي : 2561»