کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے
حدیث نمبر: 291
291 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَابُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ مَأْمُونٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُوذِيُّ، بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَفَّافُ، أبنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔“
وضاحت:
تشریح:
اس حدیث سے پتا چلا کہ دوران نماز اگر امام کو کسی امر پر متنبہ کرنا ہو تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ مرد مقتدی سبحان اللہ کہیں اور اگر عورت مقتدی ہو تو وہ تالی بجائے۔ یعنی اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے، نہ کہ معروف تالی کی طرح تالی بجانے لگے کیونکہ یہ لہو ولعب ہے اور نماز میں لہو ولعب جائز نہیں۔ عورتوں کو سبحان اللہ کہنے سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بن جائے اور مردوں کو تالی سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ کام عورتوں کا ہے۔ دیکھئے: (عون المعبود: 3/ 122، 121)۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 291
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري : 1204، و مسلم : 421،- وأبو داود : 940، وابن ماجه : 1035، و النسائي : 785 ،»