حدیث نمبر: 285
285 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا شَيْخٌ، بِمَكَّةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔“
وضاحت:
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی اجنبی سائل آئے تو اس کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے حتی الوسع تعاون کریں۔ اس کی شکل وصورت، سواری اور لباس وغیرہ کی طرف نہ دیکھیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے مستحق ہو، مثلاً وہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہو یا کسی ناگہانی آفت سے پریشان حال ہو، ممکن ہے کہ اس کے پاس سواری کا جانور رہ گیا ہو مگر اس کے گھر میں فاقہ مستی اور افلاس ہو، یا وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو یا ممکن ہے کہ وہ اپنے وطن میں تو غنی ہو مگر غریب الوطنی میں کسی مصیبت کا شکار ہوگیا ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی تاوان اور چٹی پڑ چکی ہو۔ سو صورتیں ہو سکتی ہیں لہٰذا اس کی شکل وصورت اور سواری کو دیکھ کر کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ آپ کے مال میں اللہ تعالیٰ ٰ نے اس کا بھی حق رکھا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی اجنبی سائل آئے تو اس کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے حتی الوسع تعاون کریں۔ اس کی شکل وصورت، سواری اور لباس وغیرہ کی طرف نہ دیکھیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے مستحق ہو، مثلاً وہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہو یا کسی ناگہانی آفت سے پریشان حال ہو، ممکن ہے کہ اس کے پاس سواری کا جانور رہ گیا ہو مگر اس کے گھر میں فاقہ مستی اور افلاس ہو، یا وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو یا ممکن ہے کہ وہ اپنے وطن میں تو غنی ہو مگر غریب الوطنی میں کسی مصیبت کا شکار ہوگیا ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی تاوان اور چٹی پڑ چکی ہو۔ سو صورتیں ہو سکتی ہیں لہٰذا اس کی شکل وصورت اور سواری کو دیکھ کر کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ آپ کے مال میں اللہ تعالیٰ ٰ نے اس کا بھی حق رکھا ہے۔