کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: قبرآخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے
حدیث نمبر: 247
247 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ الْإِشْبِيلِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 247
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ترمذي : 2308، وابن ماجه : 4267 ،»
حدیث نمبر: 248
248 - أَخْبَرَنَا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَاتِبُ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ هَانِئًا، مَوْلَى عُثْمَانَ يَقُولُ: كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى تَبْتَلَّ لِحْيَتُهُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَلَا تَبْكِي، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عثمان کے آزاد کردہ غلام ہانی کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی۔ ہانی کہتے ہیں کہ ان سے کہا جاتا: آپ کے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو (اتنا) نہیں روتے اور اس (قبر) سے (اس قدر) روتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔“ اور یہ حدیث بیان کی۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح: -
قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ مرنے کے بعد قبر، حشر، میزان اور پل صراط و غیرہ بہت سی منزلیں ہیں جہاں سے انسان نے گزرنا ہے لیکن ان تمام منزلوں کا پتا قبر سے چل جاتا ہے، اگر یہ پہلی منزل خیریت کے ساتھ گزرگئی اور فتنہ قبر میں کامیابی مل گئی تو دوسری منزلیں بھی آسانی سے گزر جائیں گی اور اگر یہیں معاملہ مشکل ہو گیا تو بعد والے مراحل اس سے بھی زیادہ سخت اور ہولناک ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ٰ رحم کا معاملہ فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 248
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ترمذي : 2308، وابن ماجه : 4267 ،»