حدیث نمبر: 229
229 - أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْمِنْهَالِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ جُمْهَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصِّيَامُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نصف صبر ہے اور ہر چیز پر زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔“
وضاحت:
فائدہ:
بنو سلیم کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (چیزوں) کو میرے ہاتھ یا اپنے ہاتھ پر شمار کیا، فرمایا: ”سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے اور الحمد للہ اسے بھر دیتا ہے اور اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتا ہے اور روزہ نصف صبر ہے جبکہ طہارت نصف ایمان ہے۔ “ [ترمذي: 3519، حسن]
بنو سلیم کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (چیزوں) کو میرے ہاتھ یا اپنے ہاتھ پر شمار کیا، فرمایا: ”سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے اور الحمد للہ اسے بھر دیتا ہے اور اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتا ہے اور روزہ نصف صبر ہے جبکہ طہارت نصف ایمان ہے۔ “ [ترمذي: 3519، حسن]