حدیث نمبر: 224
224 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی برکت ان کے سرخ رنگ میں ہے۔“
وضاحت:
تشریح:
اس حدیث مبارک میں بتایا گیا ہے کہ سرخ رنگ کے گھوڑے بابرکت ہیں یعنی دوسرے رنگوں کی بانسبت اس رنگ کے گھوڑے میں زیادہ برکت ہے کہ ان کی بدولت دنیا میں بھی برکت ملتی ہے اور آخرت میں بھی، ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے سے جو مال غنیمت ملتا ہے وہ دنیا کی برکت ہے اور اس کی وجہ سے جو اجر و ثواب ملتا ہے وہ آخرت کی برکت ہے، لہٰذا جب اختیار و انتخاب کا معاملہ ہو تو اسی رنگ کے گھوڑے کو مقدم رکھنا چاہیے۔
اس حدیث مبارک میں بتایا گیا ہے کہ سرخ رنگ کے گھوڑے بابرکت ہیں یعنی دوسرے رنگوں کی بانسبت اس رنگ کے گھوڑے میں زیادہ برکت ہے کہ ان کی بدولت دنیا میں بھی برکت ملتی ہے اور آخرت میں بھی، ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے سے جو مال غنیمت ملتا ہے وہ دنیا کی برکت ہے اور اس کی وجہ سے جو اجر و ثواب ملتا ہے وہ آخرت کی برکت ہے، لہٰذا جب اختیار و انتخاب کا معاملہ ہو تو اسی رنگ کے گھوڑے کو مقدم رکھنا چاہیے۔