کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے
حدیث نمبر: 216
216 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا ثَوَابُ بْنُ حَجِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے۔“
حدیث نمبر: 217
217 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ التَّبُوذَكِيُّ، ثنا تَوَّابُ بْنُ حَجِيلٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے۔“
وضاحت:
فائده: -
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم اپنے دین میں سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے اور عنقریب ایک قوم نماز پڑھے گی لیکن ان کا دین نہیں ہوگا اور بے شک یہ جو قرآن تمہارے اندر موجود ہے یہ بھی تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: اے عبداللہ! وہ کیسے؟ حالانکہ اسے تو اللہ نے ہمارے دلوں میں نقش کر دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس پر ایک رات گزرے گی کہ مصحف اٹھا لیا جائے گا اور جو تمہارے دلوں میں ہے وہ چھین لیا جائے گا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 86)
”اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی آپ کی طرف ہم نے اتاری ہے سب سلب کر لیں پھر آپ کو اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی میسر نہ آسکے۔“ [مصنف ابن ابي شبة: 38740، وسنده صحيح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم اپنے دین میں سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے اور عنقریب ایک قوم نماز پڑھے گی لیکن ان کا دین نہیں ہوگا اور بے شک یہ جو قرآن تمہارے اندر موجود ہے یہ بھی تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: اے عبداللہ! وہ کیسے؟ حالانکہ اسے تو اللہ نے ہمارے دلوں میں نقش کر دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس پر ایک رات گزرے گی کہ مصحف اٹھا لیا جائے گا اور جو تمہارے دلوں میں ہے وہ چھین لیا جائے گا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 86)
”اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی آپ کی طرف ہم نے اتاری ہے سب سلب کر لیں پھر آپ کو اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی میسر نہ آسکے۔“ [مصنف ابن ابي شبة: 38740، وسنده صحيح]