کتب حدیث › مسند الشهاب › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — مسند الشهاب كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبَ نَفْسِهِ باب: ہر انسان اپنے نفس کا خود محاسب ہے حدیث 201–201 كُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ باب: ہر آنے والی چیز نزدیک ہے حدیث 202–202 كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ باب: ہر آنکھ زانیہ ہے حدیث 203–203 كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ باب: ہر چیز تقدیر سے ہے حتی کہ عاجزی اور عقل مندی بھی حدیث 204–204 كُلُّ صَاحِبِ عِلْمٍ غَرْثَانُ إِلَى عِلْمٍ باب: ہر صاحب علم علم کا بھوکا ہے حدیث 205–205 لِكُلِّ شَيْءٍ عِمَادٌ وَعِمَادُ هَذَا الدِّينِ الْفِقْهُ باب: ہر چیز کا ستون ہوتا ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے حدیث 206–207 كُلُّ مُشْكِلٍ حَرَامٌ، وَلَيْسَ فِي الدِّينِ إِشْكَالٌ باب: تشویش میں ڈالنے والی ہر چیز حرام ہے اور دین میں کوئی بھی تشویشناک امر نہیں حدیث 208–208 كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ باب: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے حدیث 209–209 لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ باب: قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لیے اس کی عہد شکنی کے مطابق جھنڈا ہو گا حدیث 210–211 أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ باب: قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونوں کے بارے میں فیصلے ہوں گے حدیث 212–212 أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الصَّلَاةُ باب: سب سے پہلے نماز کا حساب لیاجائے گا حدیث 213–213 أَوَّلُ مَا يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ باب: ترازو میں سب سے پہلے حسن خلق کو رکھا جائے گا حدیث 214–214 أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَيَاءُ وَالْأَمَانَةُ باب: س امت سے سب سے پہلے حیاء اور امانت اٹھائی جائے گی حدیث 215–215 أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ باب: تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے حدیث 216–217 الْوُدُّ يُتَوَارَثُ، وَالْبُغْضُ يُتَوَارَثُ باب: محبت بھی ورثہ میں ملتی ہے اور نفرت بھی ورثہ میں ملتی ہے حدیث 218–218 حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ باب: کسی چیز کی محبت تجھے اندھا اور بہرا بنا دے گی حدیث 219–219 الْهَدِيَّةُ تَذْهَبُ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ باب: ہدیہ سماعت اور بصارت لے جاتا ہے حدیث 220–220 الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر باندھ دی گئی ہے حدیث 221–223 يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا باب: گھوڑوں کی برکت ان کے سرخ رنگ میں ہے حدیث 224–224 السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ باب: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے حدیث 225–225 طَاعَةُ النِّسَاءِ نَدَامَةٌ باب: عورتوں کی اطاعت کرنا پچھتاوا ہے حدیث 226–226 الْبَلَاءُ مُوَكَّلٌ بِالْمَنْطِقِ باب: مصیبت بولنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے حدیث 227–228 الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصِّيَامُ باب: روزہ نصف صبر ہے اور ہر چیز پر زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے حدیث 229–229 الصَّائِمُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ باب: روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی حدیث 230–230 الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ باب: سردی کے موسم میں روزہ ٹھنڈی غنیمت ہے حدیث 231–231 السِّوَاكُ يَزِيدُ الرَّجُلَ فَصَاحَةً باب: مسواک کرنے سے آدمی کی فصاحت میں اضافہ ہوتا ہے حدیث 232–232 جَمَالُ الرَّجُلِ فَصَاحَةُ لِسَانِهِ باب: آدمی کی خوبصورتی اس کی زبان کی فصاحت میں ہے ۔ حدیث 233–233 الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ باب: امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امانت دار ہے حدیث 234–234 الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن مؤذن حضرات کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی حدیث 235–235 شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي باب: میری سفارش میری امت کے کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے ہے حدیث 236–237 الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي باب: انصار میرے مخلص ساتھی اور ہم راز ہیں حدیث 238–238 يَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ باب: جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے حدیث 239–239 الصَّمْتُ حُكْمٌ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ باب: خاموشی حکمت ہے اور اسے کرنے والے بہت کم ہیں حدیث 240–240 الرِّزْقُ أَشَدُّ طَلَبًا لِلْعَبْدِ مِنْ أَجَلِهِ باب: رزق بندے کو اس کی موت سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ طلب کرتا ہے حدیث 241–241 الرِّفْقُ فِي الْمَعِيشَةِ خَيْرٌ مِنْ بَعْضِ التِّجَارَةِ باب: معیشت میں نرمی بعض تجارت سے بہتر ہے حدیث 242–242 التَّاجِرُ الْجَبَانُ مَحْرُومٌ، وَالتَّاجِرُ الْجَسُورُ مَرْزُوقٌ باب: بزدل تاجر محروم رہتا ہے اور جرات مند تاجر پا لیتا ہے حدیث 243–243 حَسَنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْمَلَكَةِ شُؤْمٌ باب: وش اخلاقی ترقی (کا باعث ہے ) اور بداخلاقی نحوست ہے حدیث 244–245 فُضُوحُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ باب: دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے ہلکی ہے حدیث 246–246 الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ باب: قبرآخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے حدیث 247–248 الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى باب: صبر پہلی چوٹ کے وقت ہے حدیث 249–249 دَفْنُ الْبَنَاتِ مِنَ الْمَكْرُمَاتِ باب: بیٹیوں کو (موت کے بعد ) دفنانا عزت و شرف کاباعث ہے حدیث 250–250 مُعْتَرَكُ الْمَنَايَا بَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ باب: موت کا میدان جنگ ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ( والی عمر ) ہے حدیث 251–251 أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ باب: میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں حدیث 252–252 الْمَكْرُ وَالْخَدِيعَةُ فِي النَّارِ باب: مکر وفریب اور دھو کے بازی ( کرنے والا ) آگ میں ہوگا حدیث 253–254 الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ تَدَعُ الدِّيَارَ بَلَاقِعَ باب: جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر چھوڑتی ہے حدیث 255–255 الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ باب: جھوٹی قسم سے سودا فروخت ہو جاتا ہے لیکن وہ کمائی کو ختم کر دیتی ہے حدیث 256–258 الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ باب: قسم ، قسم کھلانے والے کی نیت پر ہوتی ہے حدیث 259–259 الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ باب: قسم توڑنا ہوتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے حدیث 260–261 السَّلَامُ تَحِيَّةٌ لِمِلَّتِنَا وَأَمَانٌ لِذِمَّتِنَا باب: سلام ہماری ملت کے لیے تحفہ اور ہمارے ذمیوں کے لیے امان ہے حدیث 262–262 عِلْمٌ لَا يَنْفَعُ كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ باب: جس علم سے نفع نہ اٹھایا جائے وہ اس خزانے کی مانند ہے جس میں سے خرچ نہ کیا جائے حدیث 263–263 الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ باب: کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والے کے لیے صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر اجر ہے حدیث 264–264 الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ باب: نماز ہر متقی شخص کے لئے نزدیکی کا وسیلہ ہے حدیث 265–265 بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ باب: بندے اور کفر کے درمیان (فرق) نماز چھوڑنا ہے حدیث 266–267 مَوْضِعُ الصَّلَاةِ مِنَ الدِّينِ كَمَوْضِعِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ باب: دین میں نماز کا مقام ایسا ہی ہے جیسے بدن میں سرکا ہے حدیث 268–268 صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ باب: یٹھ کر نماز پڑھنے کا اجر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے آدھا ہے حدیث 269–269 الزَّكَاةُ قَنْطَرَةُ الْإِسْلَامِ باب: زکوٰۃ اسلام کا خزانہ ہے حدیث 270–270 طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ باب: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ پوشیدہ ہو اور خوشبو پھیلتی ہو ، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو پوشیدہ ہو ۔ حدیث 271–272 التُّرَابُ رَبِيعُ الصِّبْيَانِ باب: مٹی بچوں کی بہار ہے حدیث 273–273 الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ باب: روحیں جمع شدہ لشکر ہیں ، جن کا وہاں ( عالم ارواح میں ) آپس میں تعارف ہو گیا وہ یہاں (دنیا میں ) ایک دوسرے سے الفت رکھتی ہیں اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف رہیں وہ یہاں ایک دوسرے کے خلاف رہتی ہیں حدیث 274–274 الصِّدْقُ طُمَأْنِينَةٌ وَالْكَذِبُ رِيبَةٌ باب: سچائی (میں) اطمینان ہے اور جھوٹ (میں) شک ہے حدیث 275–275 الْقُرْآنُ غِنًى لَا فَقْرَ بَعْدَهُ وَلَا غِنَى دُونَهُ باب: قرآن تو نگری ہے اس کے بعد کوئی فقر وفاقہ نہیں اور نہ ہی اس کے بغیر غنا ہے حدیث 276–276 الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ يُذْهِبُ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ باب: تقدیر پر ایمان رنج وغم کو دور کر دیتا ہے حدیث 277–277 الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا يَرِيحَ الْقَلْبَ وَالْبَدَنَ , وَالرَّغْبَةُ فِي الدُّنْيَا تُكْثِرُ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ، وَالْبَطَالَةُ تُقْسِي الْقَلْبَ باب: دنیا سے بے رغبتی قلب و بدن کو راحت پہنچاتی ہے اور دنیا میں رغبت رنج وغم کو بڑھاتی ہے اور نکما پن دل کوسخت کر دیتا ہے حدیث 278–278 الْعَالِمُ وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْخَيْرِ باب: عالم اور متعلم دونوں خیر و بھلائی میں شریک ہیں حدیث 279–279 عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ باب: ہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے (عاریتاً) لیا یہاں تک کہ اسے ادا کر دے حدیث 280–281 الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ باب: بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہے حدیث 282–283 الضِّيَافَةُ عَلَى أَهْلِ الْوَبَرِ وَلَيْسَتْ عَلَى أَهْلِ الْمَدَرِ باب: مہمان نوازی دیہاتیوں پر (واجب) ہے اور شہریوں پر (واجب) نہیں حدیث 284–284 لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ باب: سائل کا حق ہے اگر چہ وہ گھوڑے پر سوار ہوکر آئے حدیث 285–285 أَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ باب: بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے حدیث 286–287 الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ باب: پنی ہبہ کرده چیز واپس لینے والا شخص اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی قے چاٹنے لگے حدیث 288–288 النَّظَرُ إِلَى الْخَضِرَةِ يَزِيدُ فِي الْبَصَرِ، وَالنَّظَرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الْحَسْنَاءِ يَزِيدُ فِي الْبَصَرِ باب: سبزہ کی طرف دیکھنا بصارت میں اضافہ کرتی ہے اور خوبصورت عورت کی طرف دیکھنا بھی بصارت میں اضافہ کرتی ہے حدیث 289–289 أُمَّتِي الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ باب: روز قیامت میری امت اس حال میں آئے گی کہ ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے نشانات سے چمک رہے ہوں گے حدیث 290–290 التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ باب: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے حدیث 291–291 النَّظْرَةُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ باب: نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے حدیث 292–293 الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ باب: گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہے حدیث 294–294 نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ باب: دونعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں (ان میں سے ایک ) صحت ہے اور (دوسری) فراغت ہے حدیث 295–295 وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ باب: عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے حدیث 296–296 الْجُبْنُ وَالْجُرْأَةُ غَرَائِزُ يَضَعُهَا اللَّهُ حَيْثُ شَاءَ باب: بزدلی اور بہادری ( کے اوصاف) فطرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ ٰ جس شخص میں چاہتا ہے انہیں رکھ دیتا ہے حدیث 297–297 مِنْ كَنْزِ الْبِرِّ كِتْمَانُ الْمَصَائِبِ وَالْأَمْرَاضُ وَالصَّدَقَةُ باب: صدقہ ، امراض اور مصائب کو چھپانا نیکی کے خزانے میں سے ہے حدیث 298–298 مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ أَنْ يُشْبِهَ أَبَاهُ باب: انسان کی سعادت مندی میں سے ہے کہ وہ اپنے باپ کے مشابہ ہو حدیث 299–299 مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ حُسْنُ الْخَلْقِ باب: سن خلق انسان کی سعادت مندی میں سے ہے حدیث 300–300 أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ باب: دنیا میں بھلائی والے آخرت میں بھی بھلائی والے ہیں حدیث 301–301 الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهَا (بِهِ) نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ باب: امانت دار خزانچی جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کی راہ میں ) دے دے جس کا اسے حکم ملا ہو تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔ حدیث 302–303 السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ باب: بادشاہ زمین پر اللہ کا سایہ ہے ہر مظلوم اس کی طرف پناہ پکڑتا ہے حدیث 304–304 كَلَامُ ابْنِ آدَمَ كُلُّهُ عَلَيْهِ لَا لَهُ، إِلَّا أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْيًا عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرَ اللَّهِ تَعَالَى باب: ابن آدم کی ہر بات اس کے خلاف پڑتی ہے ، اس کے حق میں نہیں جاتی سوائے نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے حدیث 305–305 التُّؤَدَةُ وَالتَّثَبُّتُ وَالِاقْتِصَادُ وَالصَّمتُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ باب: کام میں سوچ و بچار ، ثابت قدمی ، میانہ روی اور خاموشی نبوت کا چھبیسواں حصہ ہیں حدیث 306–306 الْأَنْبِيَاءُ قَادَةٌ وَالْفُقَهَاءُ سَادَةٌ وَمُجَالَسَتُهُمْ زِيَادَةٌ باب: انبياء علیہم السلام قائد ہیں ، فقہاء سردار ہیں اور ان کی مجلسوں میں بیٹھنا ( علم میں ) اضافے کا باعث ہے حدیث 307–307 الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَا يَمْلِكُ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ باب: ایسی چیز ظاہر کرنے والا جس کا وہ مالک نہ ہو ، جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (دھو کے باز ) کی مانند ہے ۔ حدیث 308–309 الْوُضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ يَنْفِي الْفَقْرَ وَبَعْدَهُ يَنْفِي اللِّمَمَ وَيُصِحَّ الْبَصَرَ باب: کھانے سے پہلے وضو کرنا فقر کو دورکرتا ہے اور کھانے کے بعد (وضو کرنا ) صغیرہ گناہوں کومٹاتا ہے اور نظر کو درست کرتا ہے حدیث 310–310 الْقَاصُّ يَنْتَظِرُ الْمَقْتَ، وَالْمُسْتَمِعُ إِلَيْهِ يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ، وَالتَّاجِرُ يَنْتَظِرُ الرِّزْقَ، وَالْمُحْتَكِرُ يَنْتَظِرُ اللَّعْنَةَ باب: قصہ گو غضب (الہٰی) کا منتظر رہتاہے اور اسے سننے والا رحمت کا منتظر رہتا ہے ۔ تاجر رزق کا منتظر رہتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت کا منتظر رہتا ہے ۔ حدیث 311–311 السَّعَادَةُ كُلُّ السَّعَادَةِ طُولُ الْعُمُرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: الله عزوجل کی اطاعت میں لمبی عمر پانا سعادت ہی سعادت ہے حدیث 312–312 الشَّقِيُّ كُلُّ الشَّقِيِّ مَنْ أَدْرَكَتْهُ السَّاعَةُ حَيًّا لَمْ يَمُتْ باب: جس شخص کو قیامت نے زندہ پا لیا (یعنی) وہ مرا نہیں تھا ، اس کی بدبختی ہی بدبختی ہے حدیث 313–313 الْوَيْلُ كُلُّ الْوَيْلِ لِمَنْ تَرَكَ عِيَالَهُ بِخَيْرٍ وَقَدِمَ عَلَى رَبِّهِ بِشَرٍّ باب: جو شخص اپنے اہل و عیال کو مال ( حرام ) دے کر چھوڑ گیا اور خود گناہ لے کر اپنے رب سے جاملا ، اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے حدیث 314–314 دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا، فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ باب: مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے اگر چہ وہ فاسق ہی ہو کیونکہ اس کا فسق ( کا وبال ) اس کی اپنی ذات پر ہے حدیث 315–315 ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكُّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ باب: تین (آدمیوں کی) دعائیں (ضرور) قبول ہوتی ہیں ان ( کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں : مظلوم کی بد دعا ، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد پر بد دعا حدیث 316–316 الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضِيَانِ فِي النَّارِ وَقَاضٍ فِي الْجَنَّةِ باب: قاضی تین طرح کے ہیں ، دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی ہے حدیث 317–317 خَصْلَتَانِ لَا تَكُونَانِ فِي مُنَافِقٍ: حُسْنُ سَمْتٍ، وَلَا فِقْهٌ فِي الدِّينِ باب: دو اچھی عادتیں منافق میں نہیں ہو سکتیں : اچھی سیرت اور دین میں سمجھ بوجھ حدیث 318–318 خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ باب: دو بری عادتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں : بخل اور بد اخلاقی حدیث 319–319 عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. باب: دو طرح کی آنکھوں کو (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی : ایک وہ آنکھ جو آدھی رات کے وقت اللہ کے ڈر سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جورات کے وقت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی حدیث 320–321 مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ طَالِبُ عِلْمٍ وَطَالِبُ دُنْيَا باب: دو طرح کے بھوکے حریص کبھی سیر نہیں ہوتے : ایک علم طالب اور دوسرا دنیا کا طالب حدیث 322–322 الشَّيْخُ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَتَيْنِ: فِي حُبِّ طُولِ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةِ الْمَالِ باب: بوڑھا آدمی دو چیزوں کی محبت میں (ہمیشہ ) جوان رہتا ہے : لمبی زندگی کی محبت میں اور کثرت مال (کی محبت میں ) حدیث 323–323 أَرْبَعَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ تَعَالَى: الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ باب: چار آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ کونفرت ہے : قسمیں اٹھا اٹھا کر مال فروخت کرنے والا ، متکبر فقیر ، بوڑھا زانی اور ظالم حکمران حدیث 324–324 ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ , فَالثَّلَاثُ الْمُهْلِكَاتُ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ. وَالثَّلَاثُ الْمُنْجِيَاتُ: خَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا باب: تین چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ۔ پس ہلاک کر دینے والی تین چیزیں یہ ہیں : (۱) بخل ، جس کی اطاعت کی جائے (۲) خواہش نفس ، جس کے پیچھے چلاجائے (۳) اور انسان کا اپنی تعریف سن کر خوش ہونا ۔ اور نجات دلانے والی تین چیزیں یہ ہیں : (۱) پوشیدہ و علانیہ ( ہر حال ) میں اللہ سے ڈرنا (۲) مالداری اور محتاجی (دونوںحالتوں ) میں میانہ روی اختیار کرنا (۳) خوشی اور غصے کی حالت میں عدل وانصاف سے کام لینا حدیث 325–327 الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا، فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ باب: آپس میں گالی گلوچ کرنے والے جو بھی کہیں تو (اس کاوبال ) پہل کرنے والے پر ہوگا جب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے حدیث 328–329 أَنَا فَرَطُكُمُ عَلَى الْحَوْضِ باب: میں ( روز قیامت) حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا حدیث 330–331 أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى باب: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والاجنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا حدیث 332–332 أَنَا النَّذِيرُ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ باب: میں ڈر سنانے والا ہوں ، موت تباہی مچانے والی ہے اور قیامت وعدے کا وقت ہے حدیث 333–333 مَنْ صَمَتَ نَجَا باب: جس نے خاموشی اختیارکی وہ نجات پا گیا حدیث 334–334 مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تُكَبِّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ باب: جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرے ، اللہ اسے رفعت سے نوازتا ہے اور اور جو شخص تکبر اختیار کرے ، اللہ عز وجل اسے پستی کا شکار کر دیتا ہے حدیث 335–335 «مَنْ يَتَأَلَّ عَلَى اللَّهِ يُكَذِّبْهُ , وَمَنْ يَغْفِرْ يَغْفِرِ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ يَعْفُ يَعْفُ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ يَصْبِرْ عَلَى الرَّزِيَّةِ يُعَوِّضْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَكْظِمْ يَأْجُرْهُ اللَّهُ» باب: جو شخص اللہ پر جھوٹی قسم اٹھائے گا، اللہ اسے جھوٹا ثابت کرے گا ، اور جو شخص معاف کر دے گا اللہ بھی اسے معاف کر دے گا، اور جو کوئی درگزر کرے گا اللہ بھی اس سے درگزر کرے گا ، اور جو شخص مصیبت پر صبر کرے گا اللہ اسے بہتر بدلہ دے گا، اور جو کوئی غصہ پی لے گا اللہ اسے اجر دے گا حدیث 336–336 «وَمَنْ قَدَّرَ رَزَقَهُ اللَّهُ، وَمَنْ بَذَّرَ حَرَمَهُ اللَّهُ» باب: اور جس نے (اللہ کی نعمتوں کی قدر کی اللہ اسے ( مزید نعمتوں سے ) نوازے گا اور جس نے فضول خرچی کی اللہ اسے ( نعمتوں سے ) محروم کر دے گا حدیث 337–337 مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ باب: جس سے حساب میں (مکمل ) پوچھ گچھ کی گئی اسے عذاب ہوگا حدیث 338–338 مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنِ اقْتَرَبَ مِنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ باب: جس نے جنگل میں جا کر رہائش اختیار کی وہ سخت دل ہوا ، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہوا ، اور جو حاکم کے دروازوں پر گیا وہ فتنے میں مبتلا ہو گیا حدیث 339–339 مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ باب: جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو گیا وہ شہید ہے حدیث 340–340 مَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ باب: جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں قتل ہو گیا وہ شہید ہے حدیث 341–341 مَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ باب: جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں قتل ہوگیا وہ شہید ہے حدیث 342–343 مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ باب: اللہ تعالیٰ ٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے اپنی طرف سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے حدیث 344–344 مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ باب: اللہ تعالیٰ ٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ ( سمجھ بوجھ ) عطا فرماتا ہے حدیث 345–346 مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يَجْعَلْ خُلُقَهُ حَسَنًا باب: للہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کا خلق اچھا کر دیتا ہے حدیث 347–347 مَنِ اشْتَاقَ إِلَى الْجَنَّةِ سَارَعَ إِلَى الْخَيْرَاتِ، وَمَنْ أَشْفَقَ مِنَ النَّارِ لَهَا عَنِ الشَّهَوَاتِ، وَمَنْ تَرَقَّبَ الْمَوْتَ لَهَا عَنِ اللَّذَّاتِ، وَمَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا هَانَتْ عَلَيْهِ الْمَصَائِبُ باب: جوشخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ نیکیوں میں جلدی کرتا ہے اور جو جہنم سے خوفزدہ ہوتا ہے وہ خواہشات سے لا پروا ہو جاتا ہے اور جو موت کا خیال رکھتا ہے وہ لذتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور جو دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے اس پر مصیبتیں ہلکی ہو جاتی ہیں حدیث 348–348 مِنْ مَاتَ غَرِيبًا مَاتَ شَهِيدًا باب: جو شخص پردیس میں مراوہ شہادت کی موت مرا حدیث 349–349 مَنِ اعْتَزَّ بِالْعَبِيدِ أَذَلَّهُ اللَّهُ باب: جس شخص نے غلاموں پر فخر کیا اللہ تعالیٰ ٰ اسے رسوا کرے گا حدیث 350–350 مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا باب: جس شخص نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں حدیث 351–354 مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا باب: جس نے رات کے وقت ہم پر تیر چلایا وہ ہم میں سے نہیں حدیث 355–355 مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا باب: جو شخص اپنی مونچھیں نہیں کترواتا وہ ہم میں سے نہیں حدیث 356–358 مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ باب: جس نے ہمارے اس حکم ( دین ) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے حدیث 359–361 مَنْ تَأَنَّى أَصَابَ أَوْ كَادَ، وَمَنْ عَجِلَ أَخْطَأَ أَوْ كَادَ باب: جس نے سوچ و بچار سے کام لیا وہ (حق کو ) پہنچ گیا ، یا (حق کے ) قریب ہو گیا اور جس نے جلد بازی کی اس نے خطا کھائی یا ( خطا کے ) قریب ہو گیا حدیث 362–363 مَنْ يَزْرَعْ خَيْرًا يَحْصُدْ رَغْبَةً، وَمَنْ يَزْرَعْ شَرًّا يَحْصُدْ نَدَامَةً باب: جوشخص نیکی بوئے گا وہ رغبت کی فصل کاٹے گا اور جو برائی بوئے گا وہ ندامت کی فصل کاٹے گا حدیث 364–365 مَنْ أَيْقَنَ بِالْخَلَفِ جَادَ بِالْعَطِيَّةِ باب: جسے اپنے بعد اچھائی کا یقین ہو وہ عطیہ کرے حدیث 366–366 مَنْ أَحَبِّ أَنْ يَكُونَ أَكْرَمَ النَّاسِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ أَقْوَى النَّاسِ فَلْيَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ أَغْنَى النَّاسِ فَلْيَكُنْ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ أَوْثَقَ مِنْهُ بِمَا فِي يَدِهِ باب: جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سے زیادہ طاقت ور ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسا ر کھے اور جسے یہ پسند ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غنی اور مالدار ہو تو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر اپنا اعتماد اور یقین اس سے زیادہ کرے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے حدیث 367–368 مَنْ هَمَّ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَرَكَهُ كَانَتْ لَهُ حَسَنَةٌ باب: جس شخص نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اسے ترک کر دیا ، اس کے لیے ایک نیکی ہے حدیث 369–369 مَنْ آتَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَلْيُرَ عَلَيْهِ باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے تو وہ اس پر ضرور نظر آئے حدیث 370–370 مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْلَمَ فَلْيَلْزَمِ الصَّمْتَ باب: جسے سلامتی سے رہنا پسند ہو اسے چاہیے کہ خاموشی لازم پکڑے حدیث 371–371 مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ باب: جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے حدیث 372–374 مَنْ رُزِقَ مِنْ شَيْءٍ فَلْيَلْزَمْهُ باب: جس شخص کو کسی ذریعے سے رزق ملے تو اسے چاہیے کہ اس ( ذریعے ) کو لازم پکڑ لے حدیث 375–375 مَنْ أُزِلَّتْ إِلَيْهِ نِعْمَةٌ فَلْيَشْكُرْهَا باب: جس کی طرف کوئی نعمت بھیجی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا شکر یہ ادا کرے حدیث 376–376 مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ باب: و شخص تھوڑی چیز ( ملنے ) پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادانہیں کرتا حدیث 377–377 مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ باب: جس نے کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کی تو اس کے لیے اس ( مصیبت زدہ) کے برابر اجر ہے حدیث 378–381 مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ باب: جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کرائی اس کے لیے اس ( روزہ دار ) کے برابر اجر ہے حدیث 382–382 مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي رَفَقَ اللَّهُ بِهِ باب: جس نے میری امت پر نرمی کی اللہ تعالیٰ اس پر نرمی کرے حدیث 383–383 مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ باب: جس نے کسی مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہتاہے حدیث 384–385 مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ باب: جس نے اپنے ظالم پر بد دعا کی تو بے شک اس نے (اپنے ظلم کا ) بدلہ لے لیا حدیث 386–388 مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ فَقَدْ أَجْرَمَ باب: جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا تو بے شک اس نے بھی جرم کیا حدیث 389–389 مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ باب: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے حدیث 390–390 مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَكَفَّلَ اللَّهُ بِرِزْقِهِ باب: جو شخص علم حاصل کرتا ہے اللہ اس کے رزق کا کفیل بن جاتا ہے حدیث 391–391 مَنْ لَمْ يَنْفَعْهُ عِلْمُهُ ضَرَّهُ جَهْلُهُ باب: جسے اس کے علم نے نفع نہ دیا اسے اس کا جہل نقصان دے گا حدیث 392–392 مَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ باب: جسے اس کے عمل نے پیچھے کر دیا اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکتا حدیث 393–394 مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ باب: جسے قاضی بنایا گیا حقیقت میں اسے چھری کے بغیر ذبح کیا گیا ۔ حدیث 395–396 مَنْ حَمَلَ سِلْعَتَهُ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْكِبْرِ باب: جس شخص نے اپنا بوجھ خود اٹھایا بے شک وہ تکبر سے بری ہو گیا حدیث 397–397 مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ باب: جس شخص نے اس دین میں سخت راہ اختیار کی تو یہ ( دین ) اس پر غالب آ جائے گا حدیث 398–398 مَنْ كَذَّبَ بِالشَّفَاعَةِ لَمْ يَنَلْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: جس شخص نے شفاعت کو چھٹلایا وہ روز قیامت اسے حاصل نہ کرسکے گا حدیث 399–399 مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ باب: جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور برائی رنجیدہ کر دے وہ مومن ہے حدیث 400–404 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯