کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے
حدیث نمبر: 164
164 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو خُرَاسَانَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ  السَّكَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ الْمَهْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رِفَاعَةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا بَرِئٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے جس شخص نے کسی آدمی کو اس کے خون کی امان دی پھر اسے قتل کر دیا تو میں قاتل سے لاتعلق ہوں مقتول اگرچہ کافر ہی ہو۔“
وضاحت:
فائدہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے دھو کے سے قتل کرنا بند کر دیا ہے کوئی مومن دھوکے سے (کسی کو) قتل نہ کرے۔ [ابوداؤد: 2769، حسن]
سید نا رفاعہ بن شداد سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ اگر میں نے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں مختار بن عبید ثقفی (کو قتل کر کے) ضرور اس کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا۔ میں نے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اس کے خون کی امان دی پھر اسے قتل کر دیا تو وہ روز قیامت بد عہدوں کا جھنڈا اٹھائے ہوگا۔ [ابن ماجه: 2688،صحيح]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه المعجم لابن الاعرابي : 612» رشدین بن سعد ضعیف ہے ۔