کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: سادگی ایمان میں سے ہے
حدیث نمبر: 157
157 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ہے۔“
وضاحت:
تشریح:
سادگی کتنی اہم چیز ہے؟ اس حدیث مبارک سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ یہ ایمان میں سے ہے یعنی سادگی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ سادگی میں بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں مثلاً: کپڑا پیوند لگا کر پہننا، زمین پر بیٹھ جانا، مفلس اور غریب کی بات سننا اور حتی الوسع مدد کرنے کو اپنی شان کے خلاف نہ سمجھنا، غریب کی معمولی دعوت قبول کر لینا اور اس کا پیش کیا ہوا سادہ کھانا کھا کر احسان مندی کا اظہار کرنا، ملازموں سے تحقیر آمیز رویہ رکھنے سے اجتناب کرنا، اپنے سے کم تر درجے کے لوگوں کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا، یہ سب باتیں سادگی میں آتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 157
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه السنة لعبد الله بن أحمد : 780، وشعب الايمان : 5762 ، والمعجم الكبير : 790»