کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: حیاء ایمان میں سے ہے
حدیث نمبر: 155
155 - أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مَطَرٍ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَرُوفٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أبنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں وعظ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، بلاشبہ حیاء ایمان میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري 24، وأبو داود : 4795،»
حدیث نمبر: 156
156 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نا أَبُو بَكْرٍ السَّاغَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ» وَرَوَى مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان میں سے ہے۔“ اور امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں وعظ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان میں سے ہے۔“
وضاحت:
تشریح:
انصاری اپنے جس بھائی کو وعظ کر رہا تھا وہ شرم و حیاء کا پیکر تھا ایسا شخص دنیاوی معاملات میں زیادہ تیز طراز نہیں ہوتا کیونکہ حیاء انسان کو غلط کاموں، دھوکہ، فریب دہی اور جہل سازی وغیرہ سے روکتی ہے۔ اس وجہ سے وہ انصاری اپنے بھائی پر بلا وجہ ناراض ہو کر اسے ڈانٹ رہا تھا چنانچہ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ یوں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شخص پر سے گزر ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت حیاء کرتے ہو گویا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر رہے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اسے چھوڑ دو بلا شبہ حیاء ایمان میں سے ہے۔ [بخاري: 6118]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم 36، وابن ماجه : 4184، وترمذي : 2615،»