حدیث نمبر: 119
119 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ بْنِ الْوَاثِقِ بِاللَّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ الْأَبَّارُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔“
وضاحت:
فائدہ:
سیدنا جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا جنگ کے لیے جانے کا ارادہ ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری والدہ (زندہ) ہے؟ “ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے پاس رہو (اور خدمت کرو) بے شک جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔ “ [أخرجه النسائي:3106، وقال شيخنا على زئي: إسناده صحيح]
سیدنا جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا جنگ کے لیے جانے کا ارادہ ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری والدہ (زندہ) ہے؟ “ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے پاس رہو (اور خدمت کرو) بے شک جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔ “ [أخرجه النسائي:3106، وقال شيخنا على زئي: إسناده صحيح]