حدیث نمبر: 50
50 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرِو بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ الْحَدَّادُ الْمُقْرِئُ، أبنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُهَيْلٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَمَامَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيُّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے سنا: ”ادھار لی ہوئی چیز واپس کی جائے، دودھ کے لیے لیا ہوا جانور بھی واپس کیا جائے، قرض ادا کیا جائے اور ضامن تاوان بھرنے والا ہے۔“
وضاحت:
تشریح- اس حدیث میں ادھار لی ہوئی چیزوں کی واپسی کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مقروض کی طرف سے ضامن بنے تو مقروض کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہ تاوان بھرنے کا ذمہ دار ہے۔ یعنی ضامن پر لازم ہے کہ وہ مقروض کی طرف سے قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں اپنے پاس سے رقم دے کر اس ذمہ داری کو پورا کرے۔ ہاں اگر صاحب حق معاف کر دے تو الگ بات ہے۔