حدیث نمبر: 8
8 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔“
حدیث نمبر: 9
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔“ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے بخاری نے صدقہ بن فضل سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔“
حدیث نمبر: 11
وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ، هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنگ چال بازی (کا نام) ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔
حدیث نمبر: 12
وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا. نا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔“
وضاحت:
تشریح - ”جنگ چال بازی کا نام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ جنگ میں افرادی قوت، اسلحہ کی بہتات یا بہادری اتنی کارآمد و مفید نہیں جتنی چال بازی مفید ہے۔ آج کے مہذب الفاظ میں اسے ”حکمت عملی“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ چال بازی یا حکمت عملی ہی کا کرشمہ ہوتا ہے کہ دشمن کی بڑی سے بڑی فوج بھی میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ گویا چال بازی ایک اہم جنگی ہتھیار یا جنگ کا اہم رکن ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: «الحج عرفة» ”حج عرفہ کا ہے۔ “ [نسائي: 3047]
یعنی جس طرح وقوف عرفہ حج کا انتہائی اہم رکن ہے کہ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہو سکتا، اسی طرح چال بازی بھی جنگ کا اہم ہتھیار اور حصہ ہے اس کے بغیر جنگ کبھی بھی نہیں جیتی جا سکتی۔
یعنی جس طرح وقوف عرفہ حج کا انتہائی اہم رکن ہے کہ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہو سکتا، اسی طرح چال بازی بھی جنگ کا اہم ہتھیار اور حصہ ہے اس کے بغیر جنگ کبھی بھی نہیں جیتی جا سکتی۔