کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
حدیث نمبر: 1
1 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أبنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدًا هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
علقمہ بن وقاص لیثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور بے شک انسان کے لیے وہی (صلہ) ہے جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو (فی الواقع) اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو (فی الواقع) اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے بخاری نے قعنبی سے، انہوں نے مالک سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1
تخریج حدیث «أخرجه البخاري 1، أبو داود : 2201 ، وابن ماجه برقم: 4227»
حدیث نمبر: 2
2 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ السِّمْسَارِ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“
وضاحت:
تشریح- یہ حدیث مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے، اس کا شمار ان احادیث میں ہوتا ہے جو اسلام کی اساس اور بنیاد ہیں، اس میں بتایا گیا ہے کہ تما م اعمال کا دارومدار اور انحصار نیت پر ہے، انسان کو اس کی نیت کا پھل ملے گا، نیت اچھی ہو تو پھل بھی اچھا اور اگر نیت بری ہے تو پھل بھی برا ملے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نیت کا محل دل ہے۔ دل کے ارادے کا نام نیت ہے زبان سے اس کا تعلق نہیں۔ زبان سے ادا کیے ہوئے الفاظ نیت نہیں قول کہلاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 2
تخریج حدیث «أخرجه البخاري 54، أخرجه مسلم 1907 ، الترمذي : 1647، النسائي : 3467»