حدیث نمبر: 966
966 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الصُّوفِيُّ الْوَاعِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْبَارِيُّ، أَخْبَرَنِي جَدِّي، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، يَرْفَعُهُ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں اور بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“

وضاحت:
تشریح: -
"بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ " اس فرمان سے بیان (خطبہ و تقریر) کی تعریف و مذمت دونوں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض بیان جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں لوگ ان سے بہت متاثر ہوتے ہیں اگر یہ بیان لوگوں کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کا ذریعہ ہوں تو یہ محمود و مستحسن ہیں اور اگر ان سے بگاڑ آئے تو پھر نا جائز اور قابل مذمت ہیں۔
"بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں۔ " یعنی سارے شعر برے نہیں ہوتے بعض اشعار میں حق بات اور حکمت کا بیان ہوتا ہے ان سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ بہر حال شعر بھی ایک کلام ہے، اچھا شعر اچھا ہے اور برا شعر برا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 966
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث إسناده ضعيف جدا ، محمد بن عبید اللہ متروک ہے ، اس میں ایک اور علت بھی ہے ۔