حدیث نمبر: 94
94 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ النَّحَّاسُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَنَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ، وَمَا وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ» فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: وَمَا مَعْنَى مَا وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ؟، قَالَ: أَنْ يُعْطِيَ الشَّاعِرَ أَوْ ذَا اللِّسَانِ الْمُتَّقَى
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جو کچھ بھی اپنے گھر والوں اور اپنی ذات پر خرچ کرے تو اس کے عوض اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے اور جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت بچائے تو اس کے عوض بھی اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے۔“ میں (عبدالحمید) نے محمد بن منکدر سے کہا: ”جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت بچائے کا کیا معنی ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ کہ وہ (اپنی ہجو اور بے عزتی سے بچنے کے لیے) شاعر یا بد زبان شخص کو کچھ دے۔

حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه دار قطني : 3/ 27، وحاكم 2/ 50»بدالحمید بن حسن ہلالی ضعیف ہے ۔