حدیث نمبر: 902
902 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔“

وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں قرب قیامت کی سختیوں کا بیان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بھی بگڑتے چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ: " دنیا میں صرف آزمائش اور فتنے باقی رہ جائیں گے۔ " [ابن ماجه: 4035، وسند و صحيح]
ایک دوسری حدیث ہے، فرمایا: "قیامت سے پہلے لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھو کے کے سال ہوں گے، ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور ان میں رو بیضہ کلام کرے گا، (یعنی نا اہل شخص لوگوں کے معاملات میں رائے دے گا)۔ " [أحمد: 2 338، وسند ه حسن]
حالات اس قدر بگڑ جائیں گے کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس پر لیٹ جائے گا اور کہے گا: کاش! اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا۔ وہ نیکی اور دین داری کی وجہ سے یہ بات نہیں کہے گا بلکہ مشکلات و آزمائش کی وجہ سے (ایسی تمنا) کرے گا۔ " ([مسلم: 157]
مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ دولت مند سوچے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے؟ وہ کسی آدمی کو صدقہ لینے کے لیے بلائے گا لیکن آگے سے وہ کہے گا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ " [مسلم: 157]
" قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ " وہ لوگ کیسے ہوں گے؟ فرمایا: "نیک لوگ ایک ایک کر کے اٹھ جائیں گے اور جو یا کھجور کے کچرے کی مانند (حقیر) لوگ باقی رہ جائیں گے، اللہ کو ان کی کچھ پروا نہ ہوگی۔ " [بخاري: 6434]
بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح سبک اور تیز جبکہ درندوں کی طرح سخت (وحشی) ہوں گے وہ کسی نیکی کو نیکی سمجھیں گے نہ برائی کو برائی۔ " [مسلم: 2940]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2949، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6850، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8685، 8763، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3812، 4227، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 309»