مسند الشهاب
— احادیث801 سے 1000
لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ باب: اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے (یعنی اس معاملے میں دو رائے نہیں ہیں)
856 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا، أبنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ الْحَنْبَلِيُّ السُّكَّرِيُّ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ، جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْجُرْجَرَائِيُّ بِهَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الشَّامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي خَطْمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِجَاءٍ لَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ذَلِكَ، وَقَالَ: «مَنْ لِي بِهَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهَا: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَتْ تَمَّارَةٌ تَبِيعُ التَّمْرَ، قَالَ: فَأَتَاهَا أَجْوَدَ مِنْ هَذَا قَالَ: فَدَخَلَتِ التُّرْبَةَ، قَالَ: وَدَخَلَ خَلْفَهَا، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمْ يَرَ إِلَّا خِوَانًا، قَالَ: فَعَلَا بِهِ رَأْسَهَا حَتَّى دَمَغَهَا بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَفَيْتُكَهَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ» ، فَأَرْسَلَهَا مَثَلًاسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی خطمہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ کو سخت غصہ آیا اور فرمایا: ”میرا اس سے انتقام کون لے گا؟“ تو اس عورت کی قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں (لوں گا)۔ وہ عورت کھجوریں بیچا کرتی تھی، وہ آدمی اس کے پاس آیا (اور کہا) ان (کھجوروں) سے عمدہ کھجوریں ہیں؟ وہ (عمدہ کھجور لانے) گھر میں داخل ہوئی، وہ آدمی بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہو گیا، اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اسے کھانے کی میز کے سوا کچھ نظر نہ آیا تو اس نے وہی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری اور اس کا بھیجہ باہر نکال دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میں اسے آپ کی طرف سے کافی ہو گیا ہوں، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے۔“ یوں آپ نے اس فرمان کو ضرب المثل بنا دیا۔