حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث801 سے 1000
لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ باب: اسلام میں صرورہ (گوشہ نشینی اختیار کرنا، شادی نہ کرنا یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا) نہیں
حدیث نمبر: 843
843 - أنا ذُو النُّونِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو الْقَاسِمِ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّقَطِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ»ترجمہ:محمد ارشد کمال
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورہ نہیں ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔" [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔" [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]