مسند الشهاب
— احادیث801 سے 1000
مَا فَتْحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ فَاسْتَغْنُوا باب: جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے لہٰذا تم بے نیازی اختیار کرو
819 - نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الشِّيرَازِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ الْمُقْرِئُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْأَحْوَصِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، نا عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ، نا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ، مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مُظْلِمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، اعْفُوا يَزِدْكُمُ اللَّهُ عِزًّا، وَلَا فَتْحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، أَلَا إِنَّ الْعِفَّةَ خَيْرٌ» قِيلَ: غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِسیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں: صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا لہٰذا صدقہ کیا کرو۔ اور بندے کا کسی کی ظلم و زیادتی سے درگزر کرنے کی وجہ سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے درگزر کیا کرو اللہ تمہاری عزت بڑھائے گا۔ اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ سنو! مانگنے سے بچنے میں ہی بہتری ہے۔“ کہا گیا ہے: ابوسلمہ کی اپنے والد کی احادیث میں سے یہ حدیث نادر الوجود ہے۔