مسند الشهاب
— احادیث801 سے 1000
مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ باب: جس بندے کو اللہ تعالیٰ ٰ عوام کا حاکم بنائے (اور ) وہ اپنی موت کے دن اس حال میں مرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہوتو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے ۔
805 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنِّي حَيٌّ مَا حَدَّثْتُكَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَفِيهِ «وَهُوَ غَاشٌّ» مَكَانَ «غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ»حسن کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس مرض میں عیادت کی جس میں ان کا انتقال ہوا تھا، معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ابھی میری زندگی باقی ہے تو میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس بندے کو اللہ تعالیٰ عوام کا حاکم بنائے (اور) وہ اپنی موت کے دن اس حال میں مرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ اسے امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل بیان کیا ہے اور اس میں (غاشا لرعیتہ) ”اپنی عوام کو دھوکا دینے والا“ کی جگہ (وهو غاش) ”اور وہ دھوکا دینے والا ہو۔“ کے الفاظ ہیں۔