حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث601 سے 800
مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالًا إِلَّا أَهْلَكَتْهُ باب: صدقہ جس مال میں بھی مل جائے اس (مال) کو تباہ کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 782
782 - أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَافِظِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَانِيُّ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. . . وَذَكَرَهُ، قَالَ أَبِي: تَفْسِيرُهُ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ الصَّدَقَةَ أَوِ الزَّكَاةَ وَهُوَ مُوسِرٌ أَوْ غَنِيُّ، وَإِنَّمَا هِيَ لِلْفَقِيرِترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ عبد اللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشحال یا مالدار شخص صدقہ یا زکاۃ پکڑ لے (اور اسے اپنے مال میں ملا لے) حالانکہ یہ صدقہ تو فقراء کے لیے ہے۔