حدیث نمبر: 698
698 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا غلہ ماپ لیا کرو تمہارے لیے برکت ہو گی۔“

وضاحت:
تشریح: -
یہ حکم غلہ کی خرید و فروخت کے وقت ہے یعنی غلہ کی خرید و فروخت کرتے ہوئے اسے ماپ لینا چاہیے اگر چہ اندازے سے خریدنا بہی جائز ہے لیکن ماپ تول کر لینا مستحب اور افضل ہے اس سے چیز میں برکت آتی ہے علماء کا کہنا ہے کہ برکت کا اصل سبب نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم صلى اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجا آوری ہے گویا نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالی شان کی تعمیل حصول برکت کا ذریعہ ہے اور عدم تعمیل میں نحوست ہے اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 698
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2128، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4918، والطبراني فى«الكبير» برقم: 643، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11281، 11282، 11283، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17450»